یاغوث المدد کہنا کیسا ہے ؟

 


*🔗یا غوث المدد کہنا کیسا ہے ؟🔗*

*☆☆☆ـــــــــــــ🌺🏵️⁩🌺ـــــــــــــ☆☆☆*

*غلام تاج الشریعہ ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں👇👇*

*https://t.me/+qeN7NztnLh9mMWVl*

 


*🥏السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*

*🪀کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسٔلہ کے بارے میں کہ یا غوث المدد بولنا کیسا ہے* 


*یعنی غیراللہ سے مدد منگنا جائز ہے*


*قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں*


*🔰☆ ســـاٸـــل ⇩⇩⇩☆*

*علی اکبر سیتامڑھی بہار*

 🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏

   *وعلیــکم الســـلام و رحمۃ اللہ برکاتہ*


*💠الجــواب بــعون المــلک الــوھــاب*

*✒️یا غوث المدد کہنا شرعاً جائز ہے، کفرو شرک نہیں ہے چونکہ ہر کوئی خوب جانتا ہے کہ مدد در حقیقت ﷲ تعالیٰ فرماتا ہے جن کا ذکر قرآن احادیث مصطفی سے ثابت ہے جن بندگان خدا کو وقت حاجت پکارنے اور ان سے مدد مانگنے کا صاف حکم دیا گیا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے*

*⬅️فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ-وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ۔*

*بیشک اللہ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے اور اس کے بعد فرشتے مدد پر ہیں*

*📚ترجمہ کنزالایمان ،پ۲۸،التحريم،آیت،۴ ،*


*📝مفسرین لکھتے ہیں اس آیت کریمہ کے متعلق تین باتیں ہیں جس میں دو  ملاحظہ ہوں*


*(2)… نبیٔ  کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مسلمانوں  کے ایسے مدد گار ہیں جیسے بادشاہ رعایا کا مددگار اور مومن حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ایسے مددگار جیسے خُدّام اور سپاہی بادشاہ کے، لہٰذا اس آیت کی بناء پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مسلمانوں  کے حاجت مند ہیں*

*(3)…اس آیت میں  حضرت جبریل عَلَیْہِ  السَّلَام اور نیک مسلمانوں  کو مولیٰ یعنی مدد گار فرمایا گیا اور فرشتوں  کو ظہیر، یعنی معاون قرار دیا گیا، اس سے معلوم ہواکہ اللّٰہ  تعالیٰ کے بندے مدد گار ہیں  ،یاد رہے کہ جہاں  غیرُ اللّٰہ کی مدد کی نفی ہے وہاں  حقیقی مدد مراد ہے، لہٰذا آیات میں  تعارُض نہیں*

*📕(تفسیر صراط الجنان)*


*اشعتہ اللمعات شروع باب زیارت القبور میں ہے*

*امام غزالی گفتہ ہرکہ استمداد کردہ شود بوے درحیات استمداد کردہ مے شود بوے بعد ازوفات یکے از مشائخ گفتہ دیدم چہارکس راز مشائخ کہ تصرف می کنند در قبور حود مانند تسرفہا ایشاں درحیات خودیا بیشتر۔قومے مے گویند کہ امداد حی قومی نزاست ومن مے گویم کہ امداد میت قوی تر واولیاء را تصرف دراکون حاصل است وآں نیست مگر ارواح ایشاں راوارواح باقی است۔’’امام غزالی نے فرمایا کہ جس سے زندگی میں مدد مانگی جاتی ہے اس سے ان کی وفات کے بعد بھی مدد مانگی جاوے ایک بزرگ نے فرمایا کہ چار شخصوں کو ہم نے دیکھا کہ وہ قبروں میں بھی وہ ہی عمل درآمد کرتے ہیں جو زندگی میں کرتے تھے یا زیادہ،ایک جماعت کہتی ہے کہ زندہ کی مدد زیادہ قوی ہے اور میں کہتا ہوں کہ مردہ کی امدادزیادہ قوی اولیاء کی حکومت جہانوں میں ہے اوریہ نہیں ہے مگر انکی روحونکو کیونکہ ارواح باقی ہیں*

*📖حاشیہ مشکوٰۃ باب زیارت القبور میں ہے👇*

*وَاَمَّا الا ستِمدَادُ بَاھلِ القُبُورِ فِی غَیرِ النَّبِیِّ عَلَیہِ السَّلاَمُ اَوالاَنبِیآَئِ فَقَد اَنکَرَہ کَثِیرٌ مِّنَ الفُقَھَآئِ وَاَثبَتَہُ المَشَائخُ الصُّوفِیَۃُ وَبَعضُ الفُقَھَآئِ قَالَ الامَامُ الشَّافِعِیُّ قَبرُ مُوسَی الکاَظِمِ تِریاَقٌ مُجَرَّب لِاجَابَۃِ الدُّعَائِ وَقَالَ الامَامُ الغَزَالیُّ مَن یُّستَمُدُّ فِی حَیَاتِہٖ یُستَمَدُّ بَعدَ وَفَاتِہٖ*


*نبی علیہ السلام و دیگر انبیائے کرام کے علاوہ اور اہل قبور سے دعا مانگنے کا بہت سے فقہا نے انکار کیا اور مشائخ صوفیہ اور بعض فقہاء نے اسکو ثابت کیا ہے۔امام شافعی فرماتے ہیں کہ موسیٰ کاظم کی قبر قبولیت دعا کیلئے آزمودہ تریاق ہے اور امام محمد غزالی نے فرمایا کہ جس سے زندگی میں مدد مانگی جاسکتی ہے اس سے بعد وفات بھی مدد مانگی جاسکتی ہے*


*🌻اِذَاانفَلَتَت دَآبَّۃُ اَحَدِکُم بِاَرضٍ فَلاَۃٍ فَلیُنادِیَا عِبَادَاللہ ِ اِحبِسُوا*


*یعنی جب جنگل میں کسی کا جانور بھاگ جائے تو آواز دو کہ اے اللہ کے بندو اسے روک دو۔*

*⬇️عباد اللہ کے ماتحت فرماتے ہیں*

*اَلمُرَادُبِھِمُ المَلٰٓئِکَۃُ اَوِ المُسلِمُونَ مِنَ الجِنِّ اَو رِجَالُ الغَیبِ المُسَمُونَ بِاَبدَالٍ*

*’’یعنی بندوں سے یا تو فرشتے یا مسلمان یا جن یارجال الغیب یعنی ابدال مراد ہیں ۔*

*پھر فرماتے ہیں⬇️*

*ھٰذَاحَدِیثٌ حسنٌ یَحتاجُ اِلَیہِ المُسَافِرُونَ وَاَنَّہ مُجَرَّبُ*

*یہ حدیث حسن ہے مسافروں کو اس حدیث کی سخت ضرورت ہے اور یہ عمل مجرب ہے*

*📝شاہ عبدالعزیز صاحب تفسیر فتح العزیز صفحہ۲۰ پر فرماتے ہیں* 

*باید فہمید کہ استعانت ازغیربوجہے کہ اعتماد باشد اور اعوان الہی نداند حرام است و اگر التفات محض بجانب حق است داورایکے از مظاہر عون الہی دانستہ وبکار خانہ اسبابی و حکمت او تعالیٰ درآں نمودہ بغیر استعانت ظاہرہر نماید دور از عرفان نخواہد بودودرشرح نیزجائز و رواست در انبیاء و اولیاء ایں نوع استعانت تعبیر کردہ انددر حقیقت این نوع استعانت بغیر نیست بلکہ استعانت بحضرت حق است لاغیر۔* *’’سمجھناچاہیئے کہ کسی غیر سے مدد مانگنا بھروسہ کے طریقہ پر کہ اس کو مدد الہیٰ نہ سمجھے حرام ہے اور اگرتوجہ حق تعالیٰ کی طرف ہے اس کو اللہ کی مدد کا ایک مظہر جان کر اور اللہ کی حکمت اور کارخانہ اسباب جان کر اس سے ظاہری مدد مانگی تو عرفان سے دور نہیں ہے اور شریعت میں جائز ہے اور اس کو انبیاء و اولیاء کی مدد کہتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ حق تعالیٰ کے غیر سے مدد مانگنا نہیں ہے لیکن اس کی مدد سے ہے*

*📕تفسیر عزیزی سورہ بقرہ صفحہ۴۶۰ میں شاہ عبدالعزیز فرماتے ہیں*

*افعال عادی الہی رامثل بخثیدن فرزند توسیع رزق و شفاء مریض دا مثال ذالک رامشرکان نسبت بہ ارواح خبیثہ اصنام نمایند کافر می شوید۔ازتاثیر الہیٰ یا خواص مخلوقات ادمی دانند ازادویہ و مغافیر یا دعائے صلحاء بندگان او کہ ہمہ از جناب اور در خواستہ انجاج مطلب می کناند می فہمند ودرایماں ایشاں خلل نمی افنند۔’’اللہ کے کام جیسے لڑکا دینارزق بڑھانا بیمار کو اچھا کرنا اور اس کی مثل کو مشرکین خبیث روحوں اور بتوں کی طرف نسبت کرتے ہیں اور کافر ہوجاتے ہیں او رمسلمان ان امور کو حکم الہیٰ یا اس کی مخلوق کی خاصیت سے جانتے ہیں جیسے کہ دوائیں یا مغافیر یا اس کے نیک بندوں کی دعائیں کہ وہ بندے رب کی بارگاہ سے مانگ کر لوگوں کی حاجت روائی کرتے ہیں اور ان مومنین کے ایمان میں اس سے خلل نہیں آتا،،۔*


*📚فتاوی رضویہ میں حدیث شریف  کے حوالے سے محدث بریلوی تحریر فرماتے ہیں کہ ،،* 

*"نقلہ سیدی ملا علی القاری فی الحرز الثمین ، حضورپرنور سیدالعالمین صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:👇*


*اذا اضل احدکم شیئا واراد عونا وھوبارض لیس بھا انیس فلیقل یاعباد ﷲ اعینونی یاعباد ﷲ اعینونی یاعباد ﷲ اعینونی فان ﷲ عبادا لایراھم"*


*جب تم میں سے کوئی شخص سنسان جگہ میں بہکے بھولے یا کوئی چیز گم کردے اور مددمانگنی چاہے تویوں کہے: اے ﷲ کے بندو! میری مدد کرو، اے ﷲ کے بندو! میری مدد کرو، اے ﷲ کے بندو! میری مدد کرو، کہ ﷲ کے کچھ بندے عـــــہ ہیں جنہیں یہ نہیں دیکھتا*


*عـــــہ: جن کے سیدو مولاوسند وماوٰی* *حضورپرنورسیدناعبدالقادرجیلانی ہیں رضی ﷲ تعالٰی عنہ،*


*👈شاہ ولی ﷲ صاحب کی سنئے اپنے قصیدہ اطیب النغم کی شرح میں پہلی بسم ﷲ یہ لکھتے ہیں کہ:*

*لابدست ازاستمداد بروح آنحضرت صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔*

*حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی روح پاک سے مددحاصل کرناضروری ہے۔*

*👇اسی میں ہے:*

*بنظرنمی آید مرامگر آنحضرت صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کہ جائے دست زدن اندوہگین ست درہرشدّتے،*


*🌻مجھے توہرمصیبت میں اور ہرپریشان حال کے لئے حضور  علیہ الصلٰوۃ والسلام کادستِ تصرف ہی نظرآتاہے،،*


*"شرح قصیدہ الطیب ا لنغم فصل اول درتشبیب بذکرالخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی  ص٤"*


*📚فتاویٰ رضویہ شریف ،٧، ص،٥٩٠/ ٥٩١/ ٥٩٢، رضا فاؤنڈیشن لاہور*


*■☆ وَالــــلّٰـــــهُ اَعــــلَمُ  بِــالـصَّــوَاب ☆■*


*🕳️☆《📝  كتــــــــبه.....》☆🕳️ ⇩⇩⇩*

*فقیـــر مـحـــمد امــتــــیاز قــــــمر امـجــــــدی ، گــریــڈیــہ جھـــارکھـنـڈ ، امــام و خطـــیب جـــامـــع مسجـــد ڈیہــــوری اتــــری گـــیا بہــــار*

*رابـــــــطہ نمـــــبر 👇*

*📞+91 9279649198*

─┄┅━━━━▣✾❥✺❥✾▣━━━━┅┅─

*✅الجوابــــــــ صحیــــح والمجیبــــــــ نجیــــــــح* 


*حضــرت مـــولانــــا مفـــتی  ضــیاء الــحــق نقـشبـــــندی حمــــیدی صاحب  امـــــام و  خـطــیب مسجــــد غـــوثـــــیہ بنــــــارس*

*رابــطـہ نمـــــبر*

*📞+91 95801 04765*

🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻

*🗓️مؤرخہ: (02) رجب الـمرجـب  1437ھ*

*🗓شمسـی تـاریـخ(25) جنوری 2023*


*غلام تاج الشریعہ گروپ میں شامل ہونے کے لئے رابطہ کریں ،👇🏾*

*+91 9279649198*


*⌨️ المـــــرتبـــــ  ⇩⇩⇩*

 *سیــد محمـــد تسـکیـن جـیلانی مقـــام ڈوڈہ جـمـــوں کشـمیـــر الھند*

*رابــطـہ نمـــــبر 👇*

*📡 +91 9622664380*

*📢ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ📢*

⭕نوٹ:👈 *پوسٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہرگز ہرگز نہ کریں ورنہ معلوم ہونے پر قانونی کاروائی کی جاسکتی ہے(04)*

 🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️

*▄▅▆▇█▓▒سیـد تســـکــین جیلانی ▒▓█▇▆▅▃*

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...