کیا خطبہ کی اذان حضور ﷺ وسلم کے زمانے ہوتی تھی یا نہیں



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔
 علماۓ کی بارگاہ میں عرض یہ ہے کہ کیا خطبہ کی اذان حضور ﷺ وسلم کے زمانے ہوتی تھی یا نہیں مدلل جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی
۔سائل صلاح الدین سیتاپوری
_____________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
الجواب اللھم ہدایة حق والصواب 
ابو داؤد شریف جلد اوّل ۱۶۲ میں ہے 
عن السّائب بن یزید قال کن یؤذنُ بین یدی رسول الله صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اذا جلس علی المنبر یوم الجمعة علیٰ باب المسجد وابی بکرٍ وّ عمر،،،،
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز منبر پر تشریف رکھتے تو حضور کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان ہوتی اور ایسا ہی حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے زمانے میں بھی
اس حدیث شریف سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ خطبہ کی اذان مسجد کے دروازے پر پڑھنا سنت ہے،، حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام اور حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی زمانے میں بھی خطبہ کی اذان مسجد کے دروازے ہی پر ہوا کرتی تھی
حوالہ محققانہ فیصلہ صفحہ36
مفتی جلال الدین احمد امجدی 
مکتبہ رضویہ گجـرات
               واللہ اعلم باالصواب
             کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ
گدائے حضور تاج الشریعہ 
محمدعارف رضوی قادری انٹیاتھوک بازار گونڈہ یوپی
الجواب صحیح فقیرمحمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی
29/12/2020/منگل

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...