السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام اس مسٸلہ میں کہ
اگر کوٸی شخص شراب پیے تو اسکے توبہ کا کیا حکم ھے
اور اگراذان دینے کے لےآیے تو کیا اذان دے سکتا ہے براٸے کرم قرآن و حدیث کا حوالہ دے کر جواب عنایت فرما ٸیں مہربانی ہوگی۔
ساٸل۔عبدالرشید میر
بیروہ رٹسونہ
____________________________________
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
بے شک اللہ تعالی گناہوں کو معاف کر نے والا ہے اگرچہ وہ شرابی ہی کیوں نہ ہو شراب پینے والا شخص جب ایک بار شراب پیتا ہے تو چالیس دن تک اس کی کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی ہے شرابی کی اذان کو قبول نہیں جب اللہ کے بارگاہ میں توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے ۔التائب من الذنب کمن لاذنب لہ ۔گناہوں سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہو جاتا ہے جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو
سنن ابن ماجہ بابذکرالتوبہ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور صفحہ 323
حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے شرابی کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا ۔لا یشرب الخمر رجل من امتی فی قبل اللہ منہ صلاۃ اربعین یوما ۔ میری امت کے شراب پینے والے آدمی کی اللہ تعالی چالیس دن تک نماز قبول نہیں فرماتا۔
سنن نسائی کتاب الاشربتہ حدیث 5664
شرابی کے ہاتھ اور منہ کے پاک ہونے کاکوئی اعتبارنہیں۔
جوخمرہے اس کاقلیل اورکثیر سب حرام ہے ۔فتاوی رضویہ۔اس لیے شرابی سے اذان نہ دلوایا جائے
واللہ سبحنہ وتعالیٰ اعلم
وعلمہ اتم واحکم
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح فقیرمحمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ
29/12/2020/منگل

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں