اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
کیا فرماتے ہیں علما ٕ کرام ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسٸلہ کے بارے میں کہ زید جب نیند ہی میں تھا تو اس کو لگا کہ احتلام ہو گیا ہے لیکن جب بیدار ہوا تو کہیں پر بھی تری یا کوٸ ایسی چیز نہیں ملی جس سے یقین ہو جاۓ کہ احتلام ہوا ہے تو کیا زید پر غسل فرض ہوا کہ نہیں مدلل جواب عنایت فرما دٸیں عین نوازش ہوگی
المستفتی محمد ارمان رضا رضوی ضلع مدھوبنی بہار
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
الجواب بعون الملک الوہاب، اللہم ہدایة الحق والصواب،
صورت مسٸولہ میں اگر زید کو احتلام یاد ہے مگر کپڑے پر کوٸی اثر نہیں تو غسل واجب نہیں ہے
جیساکہ حضور صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمتہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ،
اگر احتلام یاد ہے مگر اس کا کوٸی اثر کپڑے وغیرہ پر نہیں غسل واجب نہیں
بہار شریعت ج ١، ح ٢ ص ٣٢١
در مختار میں ھے
*لا یفترض ان تذکر مع اللذة و الانزال - ولم یر بللا اجماعا*
الدر المختار علی رد المحتار ج ١ ص ٣٠٢ دار الکتب العلمیة بیروت
ھکذا فی الفتاوی الرضویة ج ١ ص ١٠٤ رضا اکیڈمی ممبٸ
واللہ تعالی اعلم باالصواب
کتبہ، گداٸے مصطفےٰ ﷺ احقرالعباد، محمد صادق عالم رضوی۔(متوطن) نوری نگر کمات، اتر دیناج پور۔(بنگال) الہند
الجواب صواب و المجیب مثاب
فقط فقیر مشاہد رضا حشمتی عفی عنہ
۱۳جماد الاولی ۱۴۴۲ھ مطابق ۲۸دسمبر ٠٢٠٢ء بروز، منگل

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں