السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی کے پاس پاک کپڑا نہ ہو اور ناپاکی دور کرنے کی کوئی چیز بھی نہ ہو تو ناپاک کپڑے میں نماز پڑھے تو نماز ہوگی یا نہیں؟
جواب عنایت، فرمائیں کرم ہوگا
المستفتی محمد مختار، یوپی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
حضور صدرالشریعہ بدالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ:
اگر اس کے پاس ایسا کپڑا ہے کہ پورا نجس ہے، تو نماز میں اسے نہ پہنے اور ایک چوتھائی پاک ہے تو واجب ہے کہ اسے پہن کر پڑھے، برہنہ جائز نہیں۔ یہ سب اس وقت ہے کہ ایسی چیز نہیں کہ کپڑا پاک کرسکے یا اس کی نجاست قدر مانع سے کم کر سکے، ورنہ واجب ہوگا کہ پاک کرے یا تقلیل نجاست کرے
(بہار شریعت مطبوعہ دعوت اسلامی، جلد۱، حصہ ۳، صفحہ۴۸۵)
مذکورہ بالا حوالے سے معلوم ہوا کہ اگر اس کے پاس ایسی چیز ہے جس سے وہ اپنے کپڑے کو پاک کرسکے تو پاک کرنا واجب ہے اگر اس کے باوجود ناپاک کپڑے میں نماز پڑھے تو نہ ہوگی۔
اور اگر اس کے پاس کوئی ایسی چیز بھی نہیں جس سے پاک کرسکے (جیساکہ سوال میں مذکور ہے۔)تو حکم شرع یہ ہے اگر کپڑا پورا نجس ہے تو نماز میں اسے نہ پہنے بلکہ برہنہ نماز پڑھے
اور اگر پورا نجس نہیں ہے بلکہ ایک چوتھائی حصہ پاک ہے تو واجب ہے کہ اسی کپڑے کو پہن کر نماز پڑھے، نماز ہوجائے گی، اس صورت میں برہنہ ہوکر پڑھنا جائز نہیں
نوٹ برہنہ نماز پڑھنے میں افضل یہ ہے کہ بیٹھ کر پڑھے اور رکوع سجود اشارہ سے کرے۔ کھڑے ہوکر بھی پڑھ سکتا ہے
تنبیہ یہ سوال فرضی معلوم ہوتا ہے کیونکہ فی زمانہ کسی شخص کے پاس ایک بھی پاک کپڑا نہ ہو اور ایسی چیز بھی نہ ہو جس سے ناپاکی دور کرسکے بہت ہی نادر ہے لہذا اس طرح کے فرضی سوالات کرکے علماء کو پریشان کرنے سے حتی الامکان احتراز کریں!
والله تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب
کتبہ محمد چاند رضا اسمعیلی دلانگی، دارالعلوم غوث اعظم مسکیڈیہ،ہزاریباغ جھارکھنڈ
الجواب صحیح والمجیب نجیح فقیرمحمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی
۱۱/جمادی الاولی ۱۴۴۲ ہجری
۲۷/دسمبر ۲۰۲۰ عیسوی

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں