السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا ایک سوال ہے جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی ہمارے علاقے میں بعض جگہوں میں دیکھا گیا ہے لڑکے لڑکیاں جب بالغ ہو جاتے ہیں تو اچھے گھر کی تلاش میں شادی میں تاخیر کراتے ہیں یہ کہیں لکھا ہے قران و حدیث میں کیا لڑکی یا لڑکے کی شادی امیر گھرانے میں ہو
سائلہ رضویہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
اچھے سے اگر مراد مالدار ہے تو مالدار گھرکے تلاش کی وجہ سے شادی میں تاخیر کرنا درست نہیں اگر اس تلاش میں لڑکا یا لڑکی کوئی گناہ کر بیٹھے تو ان کے والدین اس گناہ میں برابر کے شریک ہوں گے شادی بیاہ کے موقع پر مالدار نہیں بلکہ دیندار کی جستجو کی جائے ہر ماں باپ پر ضروری ہے کہ لڑکا یالڑکی بالغ ہو جاۓ تو ان کی شادی کسی کفو سے کردیں۔ ایسا کوئی حدیث موجود نہیں ہے امیر یا مالدار کے گھر شادی کریں امیر گھرانہ نہ ملنے کی وجہ سے اگر شادی سے رک جائیں تو محض گنہگار ہوں گے
رشتوں میں امیری اور غریبی نہیں دیکھی جاتی ہے اگر لڑکا دیندا رہے اور لڑکی پرہیزگار ہے تو اسے بہتر رشتہ کوئی نہیں
مجدید اعظم علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں جب لڑکا جوان ہو تو شادی کر دے شادی میں وہی رعایت قوم ودین سیرت وصورت ملحوظ رکھے چند سطر بعد ہے جب کفو ملے نکاح میں دیر نہ کرے حتی الامکان بارہ برس کی عمر میں بیاہ دے زنہار کسی فاسق فاجر خصوصا بدمذہب کے نکاح میں نہ دے اھ
فتاویٰ رضویہ جلد نہم نصف اول صفحہ 47
لڑکے بالغ ہونے کی عمر کم از کم بارہ سال اور زیادہ سے زیادہ پندرہ سال ہے اور لڑکی کی کم از کم 9 سال اور زیادہ سے زیادہ پندرہ سال ہے
حوالہ فتاوی مرکزتربیت افتاء
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح والمجیب نجیح فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری عفی عنہ بلرامپوری
۱۲جماد الاولی ۱۴۴۲ھ مطابق ۲۸دسمبر
٠٢٠٢ءبروز، دوشنبہ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں