السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر وضو کرنے کے بعد ستر کھل جائے تو کیا وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟
حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں! مہربانی ہوگی
السائل۔۔۔۔ محمد رضا، یوپی
_____________________________________
السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
الجواب بعون الملک الوہاب۔
حضور صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی تحریر فرماتے ہیں:
عوام میں جو مشہور ہے کہ گھٹنا یا ستر کھلنے یا اپنا پرایا ستر دیکھنے سے وضو جاتا رہتا ہے، محض بے اصل بات ہے۔ ہاں وضو کے آداب سے ہے کہ ناف سے زانو سے زانو کے نیچے تک سب ستر چھپا ہو بلکہ استنجے کے بعد فوراً ہی چھپا لینا چاہیے کہ بغیر ضرورت ستر کھلا رہنا منع ہے اور دوسرے سامنے تو ستر کھولنا حرام ہے۔
(بہار شریعت مطبوعہ دعوت اسلامی،ج ۱، ح۲، صفحہ ۳۰۹)
اور حضور سیدی اعلی حضرت رضی عنہ ربہ القوی فرماتے ہیں:
ستر کھلنے یا دیکھنے سے وضو جاتا ہے جیساکہ عوام کی زبان زد ہے، محض بے اصل ہے۔ علماء نے ستر عورت کو آداب وضو سے گنا۔ اگر کشف (ستر کھلنے) سے وضو جاتا تو فرائض وضو سے ہوتا۔ ملخصاً
(فتاویٰ رضویہ قدیم، جلد ۱، صفحہ ۶۷ )
مذکورہ بالا حوالہ جات سے یہ واضح ہوگیا کہ ستر کھلنے یا کسی کا ستر دیکھنے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے۔عوام میں جو مشہور ہے کہ وضو ٹوٹ جاتا ہے یہ محض بے اصل ہے۔
ہاں بلاضرورت ستر کھولنا منع ہے بلکہ اگر دوسرے کے سامنے ہو تو حرام ہے۔
۔والله تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔
کتبہ ۔۔۔۔ محمد چاند رضا اسمعیلی، دلانگی ، دارالعلوم غوث اعظم مسکیڈیہ، جھارکھنڈ۔
الجواب صحیح فقیرمحمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی
۸/جمادی الاولی ۱۴۴۲ ہجری۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں