السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل میں کہ کسی کام کے وجہ سے کافروں کو مسجد کے اندر لے جانا کیسا ہے جبکہ اس کام کو کرنے والا اپنا مومن بھائی بھی ہے جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
سائل محمد شمیم القادری رضا نگر گریڈیہ جھارکھنڈ
___________________________________
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
مسلم مستری کے ہوتے ہوۓ کافر سے کام نہ کراٸیں
اس لیۓ کہ جب کافر کام کریگا تو اسکا فاٸدہ ہوگا تو اسکے بجاۓ اپنے دینی بھاٸ کا فاٸدہ کرایا جاۓ
سیدی اعلیٰ حضرت قدس سرہ القدسی ایک مقام پر فرماتے ہیں
جب مسلمان حلواٸ بھی موجود ہو تو خواں مخواں ہنود کی طرف جھکنے کی وجہ کیا ھے - یہ کیسا فاٸدہ ھے کہ اپنے مال کا نفع اپنے مسلمان بھاٸ ہی کو پہنچا اھ
فتاوی رضویہ ج 9 ص 35 رضا اکیڈمی ممبٸ
کافر سے کام کرانے میں حاصل حکم فقط اتنا ھے کہ فتویٰ جواز پر تقویٰ احتراز پر
*کما فی الرضویة*
فتاویٰ اکرمی میں ہے مسجد خدا کا گھر ہے اس کا احترام ہر حال میں مسلمانوں پر لازم ہے کہ غیر مسلم کو پاکی اور ناپاکی سے کوئی مطلب نہیں رہتا اور نہ اس سے حرمت مسجد کا لحاظ ہے اور پھر غیر مسلم سے کام کروانے پر وہ اپنی برتری سمجھے گا گویا یہ ایک قسم کا احسان ہوگا لہذا جہاں تک ممکن ہو مسجد کی تعمیر میں کافر مستری کو نہ لگایا جائے یعنی بچنا بہتر ہے کماوردفی احسن الفتاویٰ المجلد الثانی صفحہ 554
حوالہ فتاویٰ اکرمی ص 262
واللہ اعلم
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح فقیر محمد مشاہد رضا حشمتی عفی عنہ رامپور کمیری یوپی ۔
15/1/2021/جمعہ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں