السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ آپ حضرات کی بارگاہ میں ایک سوال ہے کہ اگر کوئی عورت بچے کی پیدائش کو روکنے کے لئے آپریشن کیا اور پھر حج بیت اللہ کے لئے جانا چاہتی ہے اس کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے جواب عنایت فرمائیں
_____________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب ۔
اگر کوئی عذر شرعی نہ ہو تو آپریشن کے ذریعے بچے کو روکنا یا حمل ضائع کرنا ناجائز حرام ہے۔
فتاوی مرکز تربیت افتاء جلد دوم۔
اگر عورت مذکورہ نے بغیرعذر شرعی ایساکیاہے توبھی اسے حج بیت اللہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ وہ اپنے اس فعل کی وجہ سے گنہگار وفاسق ضرور ہے لیکن مشرک نہیں اس لئے وحج وعمرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر استطاعت رکھتے ہے تواس پر حج فرض ہے
لیکن اس پر لازم ہے کہ جتنا جلدی ہوسکے اپنےگناہوں پر نادم وشرمندہ ہوکر علانیہ توبہ واستغفار کرے
قال اللہ تعالیٰ
الا من تاب و آمن وعمل عملا صالحا فاولئک یبدل اللہ سیآتھم حسنات وکان اللہ غفورارحیما
مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائےاور اچھا کام کرےتوایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے کنزالایمان سورہ فرقان ٧٠
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمدامتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرامپوری
14/1/2021

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں