السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسںٔلہ کے بارے میں کہ زید بغیر جانے کو مسئلہ بتاتا ہے ، لوگوں کے مسائل کے جواب بہت غلط بتاتا ہے اس کے بارے میں از روئے شرع کیا حکم ہوگا؟
جواب عنایت فرمائیں!
السائل: محمد شاہ رخ رضــا قــادری سـوار ضـلـع رامـپـور یـوپـی
____________________________________
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
الجواب بعون الملک الوہاب۔
جو شخص علم نہیں رکھتا ہو اور احکام شرع سے بالکل نابلد ہو، ایسے لوگوں کا مسئلہ بتانا حرام ہے۔ حدیث شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ:
"من افتیٰ بغیر علم لعنتہ ملائکة السماء والارض" یعنی جو شخص بغیر علم کے فتویٰ دے، اس پر زمین وآسمان کے فرشتے لعنت کرتے ہیں،"
( کنز العمال جلد ۱۰، صفحہ ۱۹۳ )
اور دوسری حدیث شریف میں ہے کہ:
"اجرأکم علی الفتیا اجرأکم علی النار"
یعنی: تم میں جو شخص فتویٰ دینے پر زیادہ جرأت کرتا ہے، وہ دوزخ کی آگ پر زیادہ دلیر ہے۔
( کنز العمال جلد ۱۰، صفحہ ۱۸۷ )
(ماخوذ از فتاویٰ مرکز تربیت افتاء، جلد اول، صفحہ ۲۰۹ )
ایساہی فتاویٰ فقیہ ملت، جلد دوم، صفحہ ۲۱۷ میں مذکور ہے۔
لہذا زید اپنے اس فعل کے سبب سخت گنہگار مستحق عذاب ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے غلط فتوؤں سے رجوع کرے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرے اور آئندہ بغیر جانے کوئی بھی مسئلہ نہ بتانے کا عہد کرے۔
۔والله تعالیٰ و رسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔
کتبہ۔۔۔۔ محمد چاند رضا اسمعیلی، دلانگی۔دارالعلوم غوث اعظم مسکیڈیہ، ہزاریباغ، جھارکھنڈ۔
۲۶/ جمادی الاولی ۱۴۴۲ ہجری۔
۱۱/ جنوری ۲۰۲۰ عیسوی۔
الجواب صحيح فقیر محمد اسماعيل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ یوپی
13/1/2021

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں