مسجد کے چاپا کل سے گھر کے لئے پانی لے جانا عندالشرع کیساہے



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل میں کہ مسجد کے چاپا کل سے گھر کے لئے پانی لے جانا اور جو نماز نہیں پڑھتا ہے یعنی بے نمازی کو اس چاپا کل پہ آ کر غسل کرنا کیسا ہے جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی 

سائل محمد معراج قادری پتھلجور مدھوپور جھارکھنڈ الہند
____________________________________

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
مسجد میں وقف کردہ شخص اگر یہ اجازت دے دیا ہو کہ اس کنوے سے پانی نمازی لوگ اپنے گھر لے جا سکتے ہیں یا چاپا نل لگانے والا شخص اجازت دیا ہو کہ دیگر لوگ بھی اس سے استفادہ حاصل کریں تو پانی گھر لے جانے میں حرج نہیں یا بے نمازی کو نہانے میں حرج نہیں ورنہ جائز نہیں اسی طرح فتاوی مرکز ترتیب افتاء میں ہے۔نل یا کنواں بنوانے والے نے اگر اجازت دے دی ہو تو لینے میں حرج نہیں اور اگر بنوانے والے کی نیت یہ ہو کہ اسے وضو غسل وغیرہ نماز کے لیے طہارت ہی کے کام میں لیا جائے یا وہ مسجد کے مال سے بنوایا گیا ہو تو مقتدیوں کو اپنے گھر یا دوکانوں میں لے جانا جائز نہیں۔ اسی طرح فتاوی مصطفویہ میں ہے ۔لے سکتے ہیں جبکہ نل لگانے والے کی کنواں بنانے والے کی طرح سب کو لینے کی اجازت ہو اور اگر نل لگانے والے کی خاص مسجد ہی کے لیے نیت ہو کے وضو غسل وغیرہ نماز کے لیے طہارت ہی کے کام میں لیا جائے یا اس نل کے پانی کی قیمت مسجد کے مال سے ادا کی جاتی ہو تو گھروں کو لے جانا جائز نہیں۔اھ صفحہ269۔
حوالہ فتاویٰ مرکز تربیت افتاء  جلد اول صفحہ 259
واللہ اعلم باالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ

الجواب صحیح فقیر محمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ یوپی
15/1/2021

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...