السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
السوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کیا جمعہ کے دن
اور ماہ رمضان میں انتقال
فرمانے والے سے قبر کے سوالات نہیں ہوتے
سائل؟؟؟؟
____________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب اللھم ہدایۃ الحق والصواب
اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر کسی مومن کا انتقال رمضان المبارک یا جمعہ کے دن ہوجائے تووہ عذاب قبر و منکر نکیر کے سوال سے محفوظ رہے گا،
جیسا کہ بہارشریعت میں ممتاز الفقہا حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی خان اعظمی علیہ الرحمة والرضوان تحریر فرماتے ہیں
ہاں یہ حدیث سے ثابت ہے جو مسلمان شب جمعہ یا روز جمعہ یا رمضان المبارک کے کسی دن رات میں مرےگا سوال نکیرین و عذاب قبر سے محفوظ رہےگا۔
قال رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم۔من مات یوم الجمعۃ أو لیلۃ الجمعۃ وقي فتنۃ القبر۔اھ۔
بہار شریعت حصہ اول صفحہ 111
اور فتاویٰ رضویہ میں امام احمد رضا علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں
۔جمعرات کے لئے کوئی حکم نہیں آیا شب جمعہ اور روز جمعہ اور رمضان مبارک میں ہر روز کے واسطے یہ حکم ہے کہ جو مسلمان ان میں مرےگا سوال نکیرین و عذاب قبر سے محفوظ رہےگا۔
*واللہ اکرم ان یعفو من شئ ثم یعود فیہ*
اللہ اس سے زیادہ کریم ہے کہ ایک شئ کو معاف فرماکر پھر اس پر مواخذہ کرے اھ
ماخوذ فتاویٰ رضویہ ج9 صفحہ661
مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور
واللہ ورسولہ اعلم باالصواب
کتبـــــــہ
محمدعارف رضوی قادری انٹیاتھوک بازار گونڈہ یوپی
الجواب صحیح فقیرمحمد۔اسماعیل خان امجدی۔قادری رضوی عفی عنہ۔گونڈہ یوپی۔21/1/2021

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں