اگر کمپنی بیاض والا پیسہ دے تو ملازمت کرنا درست ہے یا نہیں؟



اسلامُ علیکم و رحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
سوال: زید بجاج فائنانس کی کمپنی میں کام کرتا ہے اور وہ کمپنی کے پاس جو پیسہ آتا ہے وہ بیاض کا رہتا ہے اور وہی پیسہ وہاں کے ورکر میں بانٹا جاتا ہے تو کیا اب زید کو جو۔ کمپنی سیلری دیتی ہے وہ پیسہ حرام کا رہے گا؟؟؟
سائل اسلم رضا 
______________________________
 وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں زید کو اگریقین کے ساتھ معلوم ہو کہ وہی پیسہ دیتا ہے تو لینا حرام ہے - 
فتاویٰ رضویہ میں ہے ملازمت دو قسم ہے، ایک وہ جس میں خود ناجائز کام کرنا پڑے ، جس میں سود کا لین دین ، اس کا لکھنا پڑھنا ، تقاضہ کرنا اس کے ذمہ ہو ، ایسی ملازمت خود حرام ہے ، اگرچہ اس کی تنخواہ خالص مال حلال سے دی جائے ، وہ مال حلال بھی اس کے لئے حرام ہے ، اور مال حرام ہے تو حرام در حرام ، دوسرے یہ کہ وہ ملازمت فی نفسہ امر جائز کی ہو ، مگر تنخواہ دینے والا وہ جس کے پاس مال حرام آتا ہے ، اس صورت کا حکم یہ ہے کہ اگر معلوم ہو کہ جو کچھ اسے تنخواہ میں دیا جارہا ہے بعینہٖ مال حرام ہے ، نہ بدلا نہ مخلوط ہوا نہ مستہلک ہوا تو اس کا لینا حرام ورنہ جائز   قال محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیاحراما بعینہٖ 
(ج : 8، ص : 173) قدیم 
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 
کتبہ : عبدالستار رضوی فیضی عفی عنہ خادم ارشدالعلوم عالم بازار کلکتہ
5، جمادی الثانی 1442ھ
الجواب صحیح۔فقیرمحمد معصوم رضا نوری۔ عفی عنہ
الجواب صحیح فقر ۔محمد اسماعیل خان۔امجدی 
قادری رضوی۔عفی عنہ ۔گونڈہ پوپی۔
21/1/2021

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...