السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام کہ، جیسے ڈاکٹر وغیرہ دوا بیچتے ہیں، اس پر لڑکی یا لڑکا کی
تصویر رہتی ہے تو اس گھر میں رحمت کے فرشتے آتے ہیں کہ نہیں، اور کوئ شخص بیمار ہو جاتا ہے تو دوالے کر گھر پر آتا ہے اور دوا پر تصویر رہتی ہے تو اس گھر میں رحمت کے فرشتے آتے ہیں کہ نہیں، جواب بحوالہ عنایت فرمائیں
تصویر رہتی ہے تو اس گھر میں رحمت کے فرشتے آتے ہیں کہ نہیں، اور کوئ شخص بیمار ہو جاتا ہے تو دوالے کر گھر پر آتا ہے اور دوا پر تصویر رہتی ہے تو اس گھر میں رحمت کے فرشتے آتے ہیں کہ نہیں، جواب بحوالہ عنایت فرمائیں
المستفتی محمد محبوب آزاد نگر الہند
____________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب ۔۔۔ہر وہ اشیاء جن پر جاندار کی تصویر موجود ہو مگر ان تصویروں کی خریدوفروخت مقصود نہ ہو تو ایسی اشیاء کی خرید وفروخت شرعاً جائز ہے اور ان چیزوں کو اپنے گھر میں رکھنا لانا جائز ہے ہاں بہتر یہ ہے کہ اگر تصویر اوپر سے پکڑ سکتے ہے تو اس کو اکھاڑ کر پھینک دیں رحمت کے فرشتے مومنوں کے گھر ضرور تشریف لائیں گے ایسی دوائی کے ڈبے یا ششی گھر میں لانا کوئی حرج نہیں ہاں دوائی ختم ہوجائے تو اس ڈبے کو پھینک دے مفتی وقار الدین قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں جس کتاب میں تصاویر لگی ہو ان کتابوں کا بیچنا جائز ہے یہ کتابوں کی خرید و فروخت کرنا ہے نہ کی تصویر کی البتہ علیحدہ سے تصویر کا بیچنا حرام ہے وقارالفتاوی ج اول ص 218
لہذا گھر میں دوائی کے ڈبے کو رکھتے ہیں تو تصاویر سمجھ کر نہیں رکھتے بلکہ دوائی سمجھ کر رکھتے ہیں دوسری بات یہ ہے کہ جس ڈبے میں تصویر لگی ہو اور نکالنے سے نکل نہیں سکتی ہے تو اس کو پردے میں رکھیں چھپا کر
واللہ اعلم
کتبہ ۔فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی۔عفی عنہ۔گریڈیہ۔جھارکھند
الجواب صحیح فقیر محمد اسماعیل خان
امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ یوپی-20/1/2021

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں