السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔کیا فرماتے ہیں علماء اکرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ مدرسے کے طلباء گھروں پر قرآن خوانی کرنے جاتے ہیں اور قرآن مجید میں سجدے بھی ہیں جو طلباء قرآن کریم پڑھتے ہیں اور سجدے نہيں کرتے اور سجدے کرنا واجب ہیں تو اس کی صورتحال قرآن اور حدیث کی روشنی میں مدلل وضاحت فرمائے
المستفتی عالم رامپوری
___________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ
الجواب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صورت مسئولہ میں طالب علم کے اوپر سجدہ واجب ہے اور اگر برابر چھوڑ دینے کی عادت ہے تو گناہ کبیرہ ہے۔واجب ہونے کی صورت یہ ہے کے پڑھنے یا سننے والا طالب علم بالغ ہو نابالغ کے اوپر واجب نہیں لیکن سجدہ کر لینا بہتر ہے
فتاویٰ عالمگیری میں ہے ولوتبدل مجلس السامع دون المتالی یتکررالوجوب علیہ ۔ولو تبدل مجلس التالی دون السامع یتکررالوجوب علیہ لا علی السامع علی قول اکثر المشائخ وبه نأخذ كذافى العتابيه.
فتاوی فیض الرسول میں ہے جب کہ سجدہ کی ایک ہی آیت کو بار بار پڑھا اور اگر سجدہ کی چند آیتوں کو پڑھا یا سنا خواہ ایک ہی مجلس میں تو جتنی آیتوں کو پڑھے گا یا سنے گا اتنی ہی بار سجدہ واجب ہوگا طالب علم نے آیت سجدہ پڑھی اور معلم نے پڑھائی یا سنی اور دونوں نے سجدہ کرلیا پھر اسی مجلس میں طالب علم نے وہی آیت پڑھی اور معلم نے پڑھائی یا سنی تو وہی پہلا سجدہ کافی ہوگا ھکذا فتاوی فیض الرسول ج اول صفحہ 392
بہار شریعت حصہ دوم میں حضور صدر الشریعہ علیہ رحمہ تحریر فرماتے ہیں کسی واجب کا ایک بار بھی قَصْداً چھوڑنا گناہِ صغیرہ ہے اور چند بار ترک کرنا کبیرہ۔/
واللہ اعلم باالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح فقیر محمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ یوپی
الجواب صحیح فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرامپوری
18/1/2021/پیر

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں