*شوہر جب تین طلاق دے چکا ھے تو بیوی کے لیۓ کیا حکم ھے*

  


السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 
کیافرماتے فرماتے مفتیان دین اس سوال کے جواب میں کہ 
ہندہ کہتی ہے کہ میرے شوہر نے مجھے تینوں طلاق دے دی ہیں، جب کہ ہندہ کا شوہر انکار کرتا ہے کہتا ہے کہ
 میں نے طلاق نہیں دی، آپ رہنمای فرمایں کہ طلاق ہوی یا نہیں،جواب سے سرفراز فرما کر عنداللہ ماجور
 ہوں،
فقط والسلام  
سائل،ا قادری 
دہرہ دون اتراکھنڈ
_________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب 
صورت مسٶلہ میں ہندہ *مدعیہ* ھے اس لیۓ ہندہ پر ضروری ھے کہ دو شخص ثقہ عادل شرعی پیش کرے
 جو طلاق کی گواہی دیں اگر گواہی مل گٸ تو شوہر کے قول کا کوٸ اعتبار نہ ہوگا  “ ہاں اگر ہندہ گواہان پیش
 نہ کر سکے تو شوہر  چونکہ *مدعا علیہ* ھے اس لیۓ شوہر پر اب قسم ھے ،  جس طرح شوہر قسم کھاۓ گا
 اسی طرح حکم دیا جاۓ گا 
*الدلیل علی المدعی و الیمین علی ما انکر* 
ھکذا قال الامام احمد رضا فی الجزء الخامس من الفتاوی الرضویة فی مقام عدیدة ، 
(غیر مترجم رضا اکیڈمی ممبٸ)
*ایضا* : *فرماتے ہیں ” پہر اگر ہندہ اپنے ذاتی یقین علم سے جانتی ھے کہ زید نے اسے تین طلاق دی ہیں تو
 اسے جاٸز نہ ہوگاکہ زید سے ساتھ رہے ناچار اپنا مہر یا مال دیکر جس طرح ممکن ہو طلاق باٸن لے اور یہ بھی
 نہ ممکن ہو تو زید سے دور بھاگے اور یہ بھی نہ ممکن ہو تو وبال زید پر ھے جبتکہ ہندہ راضی نہ ہو انتہی “*
المرجع السابق 
واللہ اعلم بالصواب 
کتبہ فقیر مشاہد رضا حشمتی عفی عنہ رامپور کمیری یوپی انڈیا۔الجواب صحیح فقیرمحمد اسماعیل خان
 امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی انڈیا۔
25/1/2021

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...