کیا مسجد میں قضا نماز پڑھ سکتے ہیں اور کن کن وقتوں میں پڑھنا منع ہے



السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
 السوال مسجد کے اندر قضا نماز پڑھ سکتے ہیں اگر
 پڑھ سکتے ہیں تو کب پڑھ سکتے ہیں وضاحت کے ساتھ جواب عنایت فرمائے دلیل کے ساتھ سائل محمد شمشیر
 رضا نوری گھر بہار  کٹیہار
___________________________________
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوہاب
صورت مسؤلہ میں مسجد کے اندر نماز قضاء پڑھنے میں حرج نہیں مسجد کے کسی اعتراف گوشہ کو اختیار
 کریں  تاکہ باہر سے آنے والے نمازیوں کو آنے جانے میں پریشانی نہ ہو جماعت سے پہلے یا جماعت کے بعد نماز
 قضاء پڑھ سکتے ہیں ہاں کچھ وقتوں میں پڑھنا نہیں ہے۔جیسے نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب سے قبل۔اور
 نماز عصر کے بعد غروب آفتاب سے پہلے نماز مکروہ ہے۔اور نصف النہار ان تینوں وقتوں میں کوئی نماز جائز
 نہیں نہ فرض نہ واجب نہ نفل نہ ادا نہ  قضاء نہ سجدہ تلاوت ہاں اگر روزے کی حالت میں ہو اور نماز
 عصر چھوٹ رہی ہو یہاں تک کہ آفتاب ڈوبتاہو پڑھ لے
 مگر اتنی دیر کرنا حرام ہے ۔حدیث شریف میں عن ابی
 سعید قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا صلوٰۃ بعد الغدوۃ حتی تطلع الشمس ء لا بعد صلوٰۃ
 العصر حتی تغیب ولا ینام ھذان الیومان الاضحی والفطر ولا تشد الرجال الاالی ثلثتہ مساجد الی المسجد
 الحرام والمسجد الاقصی والی مسجد ھذاو لاتسافرالمرأۃ یومین الا مع ذی محرم۔ابو سعید رضی
 اللہ تعالی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کے نماز فجر کے بعد کوئی نماز
 نہیں جب تک سورج طلوع نہ ہو اور نہ نماز عصر کے بعد نماز ھے جب سورج غروب نہ ہو جائے اور عید
 الاضحیٰ اور عید الفطر کے دن روزہ نہ رکھا جائے اور سفر نہ کیا جائے مگر تین مسجدوں کے طرف یعنی
 مسجد حرام۔ مسجد اقصی اور میری اس مسجد یعنی مسجد نبوی کے طرف اور نہ سفر کرے عورت دو دن کا
 مگر محرم کے ساتھ۔
اس حدیث میں کئی اہم مسائل بیان ہوئے ہیں پہلا
 مسئلہ نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب سے قبل اور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب سے پہلے نماز مکروہ ہے اس
 امر کی وضاحت کے ان لوگوں کا قول رد ہوا جو عصر کے بعد دو رکعتیں جائز قرار دیتے ہیں یا اس نماز فجر
 کے قائل ہیں جس میں سورج نکل آئے یا جو نماز فجر کے بعد سنتوں کی قضا جائز جانتے ہیں یا جو جمعہ کے
 روز مکروہ اوقات میں نماز نفل کے جواز کے قائل ہیں 
بحوالہ مسند امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ صفحہ 78
فتاویٰ رضویہ میں ہے
زوال کے قریب مکروہ وقت کی مقدار میں اختلاف ہے۔بعض نے کہا کہ نصف النہار سے زوال تك ہے،کیونکہ
 ابوسعید رضی الله تعالی عنہ نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے راوی ہیں کہ آپ نے نصف النہار سے زوال تک
 نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے
*وتفصیل ذلک یطول جدا*
فتاویٰ رضویہ جدید جلد 5 رسالہ حاجزالبحرین الواقی عن جمع الصلاتین۔129
واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ۔گریڈیہ جھارکھنڈ۔ الجواب صحیح فقیرمحمد اسماعیل
 خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی انڈیا۔ 25/1/2021/

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...