السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
علماء کرام کی بارگاہ میں عرض ہے کہ اگر جماعت شروع ہے تو اگر مقتدی شامل ہو تو ثناء پڑھے یہ ایسے ہی نیت کر کے کھڑا ہو جائے جواب عنایت فرمائیں
سائل ؟؟؟؟؟؟؟
__________________________________
الجواب بعون اللہ التواب
، وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ ، عام قاعدہ ہے کہ قرآن کی تلاوت ہوتو سامع خاموش رہے ، اللہ تعالی فرماتا ہے :
وَاِذَا قُرِئَ الۡقُرۡاٰنُ فَاسۡتَمِعُوۡا لَهٗ وَاَنۡصِتُوۡا لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ۞ ( اعراف 204)
ترجمہ:اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
صورت مسئولہ میں اگر امام جہری قراء ت میں مشغول ہو، تو اس وقت مقتدی کو نیت باندھ کر خاموش کھڑا ہوجانا چاہیے، ثنا نہ پڑھنی چاہیے، اور اگر امام نے ابھی قراء ت شروع نہیں کی ہے یا امام سری قراء ت میں مشغول ہو تو ثنا پڑھ لینی چاہیے۔فقہائے اسلام فرماتے ہیں : وقرا سبحانک اللّھم الا اذا شرع الإمام فی القراء ة وفی رد المحتار: ولو ادرک الامام بعد ما اشتغل بالقراء ة، قال ابن الفضل: لا یثنی وقال غیرہ: یثنی، وینبغی التفصیل، إن کان الإمام یجھر لا یثنی، وإن کان یسر یثنی۔
( کتاب الصلاۃ،الدر المختار مع رد المحتار)
اعلیٰ قدس سرہ القدسی فرماتے ہیں کہ ” *سبحٰنک الٰھم* اسی وقت تک پڑھ سکتے ہیں جب تک امام قرأت بآواز نہ شروع کر لے جب قرأت جہری شروع کردی اب خاموش رہنا اور سننا فرض ھے الخ
فتاوی رضویہ ج ٣ ص ٦١ رضا اکیڈمی ممبٸ
اب اگر مقتدی پہلے ہی رکعت میں شامل ہوا ھے تو اسکو پوری نماز میں کہیں نہیں پڑھنا ھے اور اگر اسکی ایک رکعت ترک ہوٸ ھے تو جب امام کے سلام پھیرنے کے بعد وہ رکعت متروکہ پوری کریگا جو در اصل میں پہلی رکعت ہوگی اس لیۓ اسکی ابتداء میں ثناء پڑھے اس لیۓ کہ ثناء پڑھنا سنت ھے اور عادة ترک کرنا گناہ ھے
کما قال الامام احمد رضا قدس سرہ القدسی فی المرجع السابق
واللہ تعالی اعلم باالصواب
کتبہ۔ محمد اختر علی واجد القادری۔ عفی عنہ خادم شمس العلما دار الافتاء والقضاء،جامعہ اسلامیہ ۔میراروڈ ممبئی
الجواب صحیح و المجیب نجیح
فقط فقیر مشاہد رضا حشمتی عفی عنہ خادم التدریس جامعتہ ریاض الجنتہ
17/1/2021

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں