السلام عليكم ورحمتہ الله وبرکاتہ
حضرت میرا ایک سوال ہے کہ جو لوگ بازو میں کڑے اور دھاگے وغیرہ بھاندتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کلیر شریف کا ہے کوئی کہتا ہے اجمیر شریف کا ہے کیا یہ بازو میں باھندنا جائز ہے کہ نہيں بحوالہ جواب عنایت فرمائیں بڑی مہربانی ہوگی آپ کی.
........۔......................................................
وعلیکم السلام ورحمت اللہ و برکاتہ
*الجواب بعون الملک الوھاب* ہاتھ میں دھاگہ کڑے وغیرہ اجمیر شریف کا ہو یا کلیر شریف کا کسی بھی جگہ کا باندھنا جائز نہیں ہے جیساکہ مرکز تربیت افتاء میں ہے اجمیر شریف یا کسی بھی جگہ کا دھاگہ ہاتھ میں باندھنا جائز نہیں کہ اس میں مشرکین سے مشابہت ہے وہ بھی اپنے تیرتھ استھانوں سے اسی قسم کے دھاگے لاکر باندھتے ہیں نیز ان کا ایک تہوار رکشا بندھن ہے جس میں اسی قسم کے دھاگے باندھے جاتے ہیں اور تشبہ بالغرض ناجائز و گناہ ہے حضور شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق صاحب امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کو یہ جائز نہیں کہ دھاگہ ہاتھ میں باندھیں اس میں مشرکین کے ساتھ تشبہ ہے اور حدیث شریف میں ہے من تشبہ بقوم فھو منھم (ماہنامہ اشرفیہ اپریل 1998)(فتاویٰ مرکز تربیت افتاء ج 2 ص 436)
واللہ اعلم باالصواب
کتبہ محمد ریحان رضا رضوی
فرحاباڑی ٹیڑھاگاچھ وایہ بہادر گنج
ضلع کشن گنج بہار انڈیا موبائل نمبر 6287118487
الجواب صحیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری
7/1/2021/

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں