السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کچھ مسلمان کرتن بھجن کرتے ہیں اور رام لیلا کھیلتے ہیں انہیں منع کیا جائے تو کہتے ہیں "" یہ تو ہنر ہے، علم و ہنر سےکمانےکوکون حرام کہ سکتے ہیں ""ایسوں کیلئے شرع کا کیا حکم ہے
حرام ہنر یا علم کے بارے میں جو احکام شرع میں وارد بحوالہ تحریر فرمایں عین کرم ہوگا۔
سائل محمد عاطف رضا
____________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
کرتن بھجن کرنے والا و رام لیلا وغیرہ میں شامل ہو کر کے کھیلنا گانا بجانا کفرہے مذکور شخص بلاشبہ کفر کر رہا ہے جو ہندوؤں کے جھوٹے رسم و رواج کے خداؤں کی تعریف بھجن کرتا ہے
اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے۔یایہا الذین امنو ادخلوا فی السلم کافتۃ و لا تتبعوا خطو ت الشیطن انہ لکم عدومبین۔
القرآن الکریم پ 2/=208
حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں من شبہ بقوم فھو منہ ۔ جو کسی قوم سے مشابہت پیدا کرے وہ انہیں میں سے
لہذا مذکور شخص ان باتوں کی وجہ یعنی کفر کرنے کی وجہ سے اسلام سے نکل گیا اگرچہ یہ سب کام اس نے اوپر کے دل سے کیا ہو اسے کلمہ پڑھا کر اعلانیہ توبہ استغفار کرایا جائے اور اگر وہ بیوی ولاہو تو تجدیدے نکاح بھی کرے
فتاوی فقیہ ملت جلد اول باب العقائد
فقہائے کرام تحریرفرماتے ہیں ۔من استحسن فعلا من افعال الکفار کفر باتفاق المشائخ
جس شخص نے کافروں کےافعال میں سےکسی فعل کواچھاسمجھاتومشائخ کرام کااس پراتفاق ہے کہ وہ بلاشک و شبہ کافرہوگیاہے
غمزالعیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب السیر والردۃ ادارۃ القرآن کراچی جلد اول صفحہ 298
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب✅✅ صحیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری
7/1/2021/

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں