السلام علیکم ورحمتہ اللہ تعالی وبرکاتہ
غیر مسلم کی شادی میں اس کو تحفہ دینا کیسا ہے؟
حافظ توحید عالم اشرفی پٹنہ بہار
_____________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ
الجو بعون الملک الوھابمسلمانوں کو کافروں سے اتنا تعلقات ہرگز نہ رکھنا چاہئے کہ ان کے شادی بیاہ میں تحفہ دیں اور ان سے تحفہ لیں یہ عرفا بھی بہت قبیح ہے کہ ان کو تحفہ دیں
حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریرفرماتے ہیں"اولا تو مسلمانوں کو مطلقاً کافروں سے اجتناب چاہئے،نہ کہ ان کفار سے اتنا خلط کہ ان کی دعوت میں شرکت ہو۔جن کے یہاں جانا اور کھاناعرفابھی نہایت قبیح ہے اوران کی کمائی بھی جائزنہیں"
فتاویٰ امجدیہ جلد ٤صفحہ ١٤٨
مذکورہ عبارت سے ظاہرہے کہ کافروں کو تحفہ دینا ان کی تقریب میں شرکت کرناجائزنہیں
البتہ دور حاضر میں کچھ وجوہات ایسے ہیں کہ مسلمان اگر کافروں سے بالکل اجتناب کریں گے توان کے جان و مال کے نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے تو بوجہ مجبوری تحفہ وغیرہ دینے میں کوئی حرج نہیں لیکن اس بات کا خیال رہے کہ کوئی کام ان کے ساتھ ایسا نہ کرے جو اسلام کے منافی ہو
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی بلرامپوری خطیب وامام غوثیہ مسجد بھیونڈی مہاراشٹر
الجواب صحیح العبد ابوالفیضان محمد عتیق اللہ فیضی یارعلوی ارشدی
4/1/2021۔سو

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں