السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایک شخص جس کی عمر بھی زیادہ ہے قریب 90/95سال علالت کی وجہ سے سانس بھی پھولتا ہے اور ابھی یوپی میں ٹھنڈ بھی بہت ہے جس کی وجہ سے وضو کرنا انکے لئے محال جیسا ہے, جب کہ مذکورہ شخص سوم و صلوٰت کا پابند ہے, جواب طلب امر یہ ہے کہ ایسے حالات میں شریعت کا کیا حکم ہے سائل : قمرالدین انصاری موضع اوسان پور ھاشم پارہ اترولہ ضلع بلرام پور یو پی
____________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
شخص مذکور کوچاہئے کہ گرم پانی کا استعمال کریں اگر ٹھنڈا پانی نقصان پہنچاتا ہے تو اگر گرم پانی مہیا نہ ہو سکے یا بیماری اس قدر سخت ہے یا کمزوری اس قدر ہے کہ خود گرم پانی نہیں کر سکتا اور ٹھنڈے پانی سے بیماری ہونےکا یابیماری بڑھنے کاشدیداندیشہ تو اس صورت حال میں تییم کرے جیساکہ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ اپنی کتاب بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں بیماری میں اگر ٹھنڈا پانی نقصان کرتا ہے اور گرم پانی نقصان نہ کرے تو گرم پانی سے وضو اور غسل ضروری ہے اور تیمم جائز نہیں ۔اگر ایسی جگہ ہو کہ گرم پانی نہ مل سکے تو تیمم کرے۔یوں ہی اگر ٹھنڈے وقت میں وضو یا غسل نقصان کرتا ہے اور گرم وقت میں نہیں تو ٹھنڈے وقت تیمم کرے پھر جب گرم وقت آئے تو آئندہ نماز کے لئے وضو کر لینا چاہیے ہے اور تیمم سے پڑھی ہوئی نمازیں اعادہ کی حاجت نہیں ہے
حصہ دوم
صفحہ 348
واللہ اعلم باالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرامپوری
2/1/2021/

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں