السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ درجہ ذیل میں جو قصیدہ ہے اس کو کس وقت کس نے پڑھا ہے، لماریت القوم لا ود عند ھم، وقد قطعو اکل العراوا لوسائل، وقد جاھرونا بالعدا وۃ والاذی، وقد طاوعواامرالعد والمزایل، رہنمائی فرمائیں مہربانی ہوگی
المستفتی مبارک انصاری جھارکھنڈ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
اس طرح سوال کرنا فضول ہے اس کا تعلق فقہ وفتاویٰ سے بالکل نہیں زیادہ شوق و ذوق ہے تاریخی معلومات کرنے کا تو تاریخی کتابوں کو مطالعہ ضرور کریں اب سوال بھیج دیا ہے تو جواب لکھ دیتاہوں لیکن آئیندہ اس طرح کے سوال سے پرہیز کریں علمائے کرام کا وقت ضائع نہ کریں
یہ قصیدہ اشعار ابوطالب نے کہا تھا جس کو قصیدہ ابو طالب بھی کہتے ہیں حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ رحمہ تحریر فرماتے ہیں ابو طالب کا یہ قصیدہ لامیہ 110 اشعار کا ہے جو بحر طویل میں ہے ابو طالب نے یہ قصیدہ کب کہا تھا اور کہنے کا سبب کیا ہوا یہ تحقیق طور پر معلوم نہیں خطابی نے ایک حدیث ذکر کی ہے کہ حضرت عبدالمطلب کے عہد میں مسلسل کئی سال قحط پڑا تو حضرت عبدالمطلب قریش کے ساتھ کو ہ ابو قبیس پر گئے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو بھی ہمراہ لے گئے حضور کو کندھے پر بٹھا کر بارش کے لیے دعا کی فوراً بارش ہوئی علامہ سہیل نے فرمایا کہ اسی موقعے پر ابو طالب نے یہ قصیدہ کہا تھا علامہ زرقانی نے ابن عساکر کے حوالے سے ذکر کیا ہے اس وقت قحط کی وجہ سے اہل مکہ سخت تنگی میں تھے کسی نے کہا لا وغری کے پاس چلیں کسی نے کہا نہیں تیرے بت مناة کے پاس چلو ایک معمر خوبصورت صاحب المراۓ نے کہا کہاں بہکے جاتے ہو تم میں بقیہ ابراہیم و اسماعیل موجود ہیں لوگوں نے کہا تمہاری مراد ابوطالب ہیں انہوں نے کہا ہاں سب لوگ ابوطالب کے گھر آئے دروازہ کھٹکھٹایا تو وہ باہر آئے سب ان کی طرف لپکے اور کہا اے ابو طالب اس وادی میں قحط ہے اہل و عیال تنگی میں ہیں چلو اور بارش کی دعا کرو یہ سن کر ابو طالب نکلے ان کے ساتھ ایک صاحبزادے تھے جو ایسے سورج معلوم ہوتے تھے جس پر سے ابھی کالی گھٹا چھٹی ہو ان کے ساتھ بہت سے چھوٹے چھوٹے بچے تھے ابوطالب نے ان صاحبزادے کو لیا اور ان کی پشت کعبے سے لگا دی ان صاحبزادے نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اس وقت آسمان میں بادل کا ٹکڑا نہیں تھا اب ہر چہار طرف سے بادل اٹھا اور موسلا دھار برسنے لگا کہ وادی بہ اٹھی اور شہر دیہات والے سب کے سب سیراب ہو گئے اسی واقعے کے طرف اشارہ کرتے ہوئے ابو طالب کہتے ہیں، لماریت القوم لا ود عند ھم، وقد قطعو اکل العراوا لوسائل، وقد جاھرونا بالعدا وۃ والاذی، وقد طاوعواامرالعد والمزایل، وابیض یستسقی الغمام بوجھہ، ثمال الیتامی عصمتہ للارامل، تلم ذبہ الھلاک من عندہ فی نعمتہ وفواضل، نزھتہ القاری شرح صحیح البخاری جلد دوم صفحہ 611
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ فقیرمحمد امتیازقمررضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح والمجیب نجیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری
(۲۸) ماہ ربیع الثانی ۱۴۴۲ھ مطابق (۱۴) دسمبر ٠٢٠٢ء بروز، دوشنبہ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں