السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
علماء کرام کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کے کھانا سامنے رکھ کر فاتحہ کرنا کیا قرآن و حدیث سےسابت ہے جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
المستفتی محمد ابرار رضا سینگرولی (ایم پی)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السـلام ورحـمتہ اللہ وبــرکاتہ
الجــواب اللـهم ہدایة الحـق والصـواب
فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں کہ،ایصال ثواب کرنا اور فاتحہ پڑھنا جیسا کہ مسلمانوں میں رائج ہے بلا شبہ جائزومستحن ہے، الحدیث. عن سعد بن عبادة قال يا رسول الله ان ام سعد ماتت فاي الصدقة افضل قال الماء فحفر بئرا وقال هذه لام سعد ( راہ ابوداؤدونسائی) حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے عرض کیا کہ ام سعد یعنی میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے ان کے لئے کون سا صدقہ افضل ہے ۔سرکار اقدس نے فرمایا پانی تو حضرت سعدرضی اللہ تعالٰی عنہ نے کوآں کھدوادیا اور کہا کہ یہ کوآں سعد کی ماں کے لئے ہے ۔یعنی اس کا ثواب ان کی روح کو ملے (ابوداؤد نسائ مشکواۃ ۱۶۹)آگے فرماتے ہیں کہ، کھانا یا شیرینی وغیرہ کو سامنے رکھ کر ایصال ثواب کرنا جائز ہے ۔اسلئے کہ حضرت سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اشارہ قریب کا لفظ استعمال کرتے ہوئے فرمایا کہ هذه لام سعد، یعنی یہ کوآں سعد کی ماں کے لئے ہے جس سے معلوم ہوا کہ کوآں ان کے سامنے تھا،بحـوالہ محققانہ فیصلہ
صفحہ نمبر 39/40
واللہ ورسولہ اعلم باالصواب
کتبہ گدائے حضور تاج الشـــریہ
محمد عارف رضوی قادری
الجواب صحیح و المجیب نجیح
کریم اللہ رضوی عفی عنہ
(۱۵) ماہ ربیع الثانی ۱۴۴۲ھ مطابق (۲) دسمبر ٠٢٠٢ء بروزبدھ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں