السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
علمائے کرام کے بارگاہ میں ایک سوال ہے کہ داڑھی کے بچی کے بغل میں جو بال ھوتے ھیں اس کو نکالنا کیسا ہے اور بچی کو مونڈنا کیسا ہے جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
المستفتی محمد انصار قادری گریڈیہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
بُچِّی یعنی نیچے ہونٹ کے پشت پر جوہلکی داڑھی لگی ہوتی ہے کسی کسی کی بہت گھنی ہوتی ہے وہ بھی داڑھی میں شامل ہے بچی کا ذکر فتاوی رضویہ میں آیا ہے نیچے لب کے بیچوں بیچ یعنی لب کے تھوڑی سی نیچے جو داڑھی ہلکی ہوتی ہے اور نیچے کے داڑھی سے مل جاتی ہے جس کا چھوڑنے کا حکم ہےاور ابروؤں اور مونچھوں اور اور بچی کےنیچے کی کھال پر بال ہے صاف کرنے میں حرج نہیں یعنی بچی کے کے بائیں دائیں جو خط ہوتا ہے صاف کر سکتے ہیں اس کے بعد فوراً داڑھی شروع ہے جس کے بارے میں حضور اعلی حضرت تحریر فرماتے ہیں داڑھی کی دونوں اطراف اجزائے داڑھی میں شامل ہیں اور ان کا چھوڑنا واجب ہے لہذا اس پر جرأت اقدام کسی طرح مناسب نہیں جب تك کسی حدیث صحیح سے یاامام مذہب کی طرف سے کسی صریح نص کے ساتھ ثابت نہ ہو،پس اس میں گہری سوچ سے کام لینے کی ضرورت ہےفتاویٰ رضویہ اور اگر آپ، بغل کی بات کرتے ہیں تو جس کے بارے میں حضور اعلی حضرت کا فتویٰ ہے کناروں کے بال مونڈ دینے میں کوئی حرج نہیں(معرب عبارت پوری ہوگئی)کیونکہ شیخ کی عبارت کا بظاہر مفاد کراہت تنزیہی ہے اور اس کا تقابل"ترك افضل، فتاویٰ رضویہ جلد 22 صفحہ 601،بہار شریعت عالمگیری و درمختار وغیرہ
واللہ اعلم بالصواب۔کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ۔الجواب صحیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری۔(۲۹) ماہ ربیع الثانی ۱۴۴۲ھ مطابق (۱۵) دسمبر ٠٢٠٢ء بروز،منگل
____________________________________________

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں