السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت کی شادی ہوکر کافی سال ہوگیا اور اولاد نہیں ہورہی ہے اور شوہر بار بار طلاق کی دھمکی دے رہا ہے جب کی عورت میں کوئ خرابی نہیں ہے تو ایسی صورت میں اس عورت کی سہیلی نے اپنے شوہر کی منی لےکر ٹویوب کے ذریعہ اس عورت کی رحم میں ڈلوا دیا اس کو بچہ پیدا ہوگیا اب پوچھنا یہ ہے کہ کسی عورت کے رحم میں دوسرے مرد کی منی ٹیوب کے ذریعہ ڈلوانا اور اس کی سہیلی کا یہ تعاون کرنا کیسا ہے اور جو اولاد ہوئ شرعا اس کی حیثیت کیا ہے حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
المستفتی محمد پرویز عالم انٹیاتھوک بازار گونڈہ یوپی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب اللهم ہدایة الحق والصواب
یہ عمل انتہائ بے حیائ اور سخت حرام ہے کہ کسی مرد کے مادہ منویہ کو ٹیوب میں لے کر کسی غیر عورت کے رحم میں داخل کیا جائے بلا ضرورت شریعہ عورت کا اپنی شرم گاہ کے سوائے اپنے شوہر کے الہ تناسل کے کسی چیز کو داخل کرنا حرام و گناہ ہے جیسا کی فتاویٰ اترا کھنڈ میں ہے فی البحر المحیط اذا عالج الرجل جاریته فیما دون الفرج فانزل فاخذت الجاریة ماءه فى شئ فاستدخلته فى فرجها فى حدثان ذالك فعلقت الجارية وولدت فالولد ولده ورالجارية ام ولد
بحر محیط میں ہے کہ جب کسی ادمی نے اپنی باندی سے بیرون شرمگاہ مباشرت کی اسے انزال ہوا باندی نے وہ مادہ منویہ لیکر کسی چیز میں رکھ لیا اور اپنی اندام نہانہ میں ڈال لیا حمل ٹھہرگیا بچہ پیدا ہوا تو اسی کا ہوگا اور باندی اسکی ام ولد ہوگی
حاشیہ طحطاوی علی الدر مختار2 ص227 باب العدة فتاویٰ حنفیہ المعروف بہ فتاویٰ اتراکھنڈ جلد1 صفحہ365یہ حدیث اپنے اطلاق کے اعتبار سے ٹیوب کے ذریعہ منی داخل کرنے پر بھی صادق آتی ہے شامی میں ہےکمالو انزل بتفخیز او تبتین علی ھذا فلو ادخل ذکرہ فی حائط ونحوہ حتی امنی او استمنا بکفه بحائل یمنع النحرارۃ یاثم ایضاً ویدل ایضاً ماقلنا فی الزیلعی حیث استدل علی عدم جله بالکف بقوله تعالیٰ(والذین ھم لفروجهم حفظون الا علی ازواجھم اوماملکت ایمانھم) (پارہ۲۹ سورہ المعارج آیت۲۸)ترجمعہ،، کسی عورت کو یہ بھی جائز نہیں کہ کسی عورت کی شرم گاہ کو بلا ضرورت شرعیہ دیکھے یا چھوئے اور ٹیوب استعمال کرنے کا عام طریقہ یہ ہے کہ دوسرا کوئ مرد یا عورت استعمال کرتی ہے اور اگر بالفرض عورت نے خد ہی استعمال کرلیا ہوتو پہلی وجہ حرمت اپنی جگہ باقی ہے اور اسکی سہیلی اور سہیلی کا شوہر تینوں گناہ گار ہوئے، ہاں یہ اولاد ثابت النسب ہوگی اور اسکی مانی جائے گی جس کی زوجیت میں یہ عورت ہے
فاتح القدیر جلد2 صفحہ334 حدیث شریف میں ہے کہ الولدللفراش وللعاھر الحجر یعنی اولاد بستر والے کی ہے اور زانی کے لئے پتھر مزید جانکاری کے لئے(ٹیسٹ ٹیوب بےادبی مسلمان) کا مطالعہ کریں ھکذا جدید مسائل کے شرعی احکام صفحہ 21از. حضرت علامہ ابو صالح مفتی محمد فیض احمد اویسی رضوی علیہ الرحمتہ القوی
واللہ ورسولہ اعـلم باالصــواب
کتبہ گدائے حضور تاج الشریعہ
محمد عارف رضوی قادری
انٹیاتھوک بازار گونڈہ یوپی
(۲۳) ماہ ربیع الثانی ۱۴۴۲ھ مطابق (۷) دسمبر ٠٢٠٢ء بروزبدھ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں