اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
السوال کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل ک بارے میں کہ ایک محفل میں جہاں پر قریب تیس آدمی موجود تھے اس محفل میں مسجد اور مدرسہ کے تعلق سے گفتگو ہو رہی تھی ایک ماسٹر صاحب بار بار مسجد ومدرسہ کی تعمیر پر اعتراض کر رہے تھے ایک حافظ صاحب نے ماسٹر اسمعیل نامی اس شخص سے پوچھا کہ آپنے بھی کبھی مدسہ یا مسجد بنوائی ہے تو ان ماسٹر صاحب کا جواب تھا کہ یہ لعنتیوں والا کام مجھ سے نہیں ہو تا لھذا جو آدمی مسجد و مدرسہ تعمیر کرنے والوں کو لعنتی کہے اس کے لیے شرعی کیا حکم ہے براے کرم تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں کرم نوزی ہوگی
المستفتی" فاروق احمد نعیمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــ
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب عالم کو جُھوٹا اور لعنتی کہنے والا گناہِ کبیر ہ کا مرتکب ہے۔ یہی حکم لگے گا کوئی کامل مومن کو جو دین کا کام کرواتا ہے مسجد یا مدرسہ کا اسے لعنتی کہنا گناہ عظیم ہے فتـاویٰ رضویہ میں ہے وہ لوگ سخت اشد کبیرہ کے مرتکب ہوئے،موردغضب جبارہیں،مستحق نار ہیں،مستحق لعنت پر وردگارہیں،مگرا تنی بات پر صاف حکم کفر ان پر نہیں ہوسکتا،اگر مرجائیں تو ان کے ساتھ اسلامی برتاؤ فرض ہوگا ہاں اگر کوئی خاص مکالمہ ایسا تھا جس پر یہ جواب دینا موجب کفر ہو تو اس کا ذکر سائل نے نہ کیا فتاوی رضویہ جلد ١٥ صفحه ٢٥٩ جیسے وہابیوں کا پیسہ سعودیہ سے بھیجا جاتا ہے اور اس میں مسجد یا مدرسہ کا کام کروانے والا ایجنٹ ہوتا ہے اس کوصرف لعنت ہی نہیں بلکہ کافر کہیں گے
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح والمجیب
فقیر محمد عتیق اللہ فیضی یارعلوی ارشدی عفی عنہ
(۲) ماہ ربیع النور ۱۴۴۲ھ مطابق (۱۹) ستمبر ٠٢٠٢ء بروز منگل

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں