دوسری رکعت کی قرأت پہلے سے طویل کرنا شرعاً کیسا ہے؟



 اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ  میرا سوال یہ ہے کہ اگر امام پہلی رکعت میں کم آیت پڑھ لے اور  دوسری رکعت میں شک ہو کی پہلی رکعت میں زیادہ پڑھا تھا اور دوسری رکعت میں پہلی رکعت سے زیادہ پڑھ لے پھر اس کو پتہ چلے کی پہلی رکعت میں کم پڑھا تھا اب اگر سجدہ سہو کر دیا کیا حکم ہے نماز ہوگی یا نہیں

الســائلہ فاطمہ قادریہ رضویہ 

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہ

الجـــــوابــــــــــــ: بعون الملک الوہاب

صورت مسئولہ میں نماز ہوجائے گی سجدہ سہو کی ضرورت نہیں اس لئے کہ سجدۂ سہوواجب کے چھوٹنے پرہے اوریہاں ترک واجب نہیں فجرکی پہلی رکعت کوبہ نسبت دوسری کے درازکرناسنت ہے اور نمازوں میں پہلی کوبہ نسبت دوسری کے دراز کرنابہترہے جیساکہ حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریرفرماتے ہیں کہ فجر کی پہلی رکعت کوبہ نسبت دوسری کےدرازکرنامسنون ہے اور اس کی مقدار یہ رکھی گئی ہے کہ پہلی میں دوتہائی دوسری میں ایک تہائی عالم گیری ج،١ص،٧٣ بہتریہ ہے کہ اورنمازوں میں بھی پہلی رکعت کی قرأت دوسری سےقدرےزیادہ ہو،یہی حکم جمعہ وعیدین کابھی ہے عالمگیری ج،١ص،٧٣ بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ٩٢ مطبوعہ قادری کتاب گھر بریلی شریف لہذا  اگرامام نےسجدۂ سہوکیااوراس کی حاجت نہ تھی تو(مسبوق)یعنی جن مقتدیوں کی کچھ رکعت چھوٹی ہیں ان کی نماز نہ ہوئی باقی سب کی ہوگئی جیساکہ بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ١٢٦ پرہےکہ امام نےسجدۂ سہوکیامسبوق نےاس کی متابعت کی جیساکہ اسےحکم ہے پھرمعلوم ہواکہ امام پرسجدۂ سہونہ تھامسبوق کی نماز فاسدہوگئی۔دوسری رکعت کی قرأت پہلی سےطویل کرنامکروہ ہےجبکہ بین فرق معلوم ہوتا ہواوراس کی مقدار یہ ہے کہ اگردونوں سورتوں کی آیتیں برابرہوں توتین آیت کی زیادتی سے کراہت ہے اورچھوٹی بڑی ہوں توآیتوں کی تعداد کااعتبارنہیں بلکہ حروف وکلمات کااعتبارہے بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ٩٢/٩٣ مطبوعہ قادری کتاب گھر بریلی شریف


واللہ اعلم بالصواب

کتبہ فقیر محمد ابراہیم خان امجدی عفی عنہ

 (١٨)رمضان المبارک ۱۴۴۱؁ھ مطابق (١٢) مئی ٠٢٠٢؁ء بروز منگل

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...