اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ
الـســــوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام ایک سوال ہے کہ ۔۔ اللہ تعالٰی کے لئے لفظ اوپر والے کہنا کیسا ہے ۔۔حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا
الســائل عبدالمصطفے نوری اڑیسہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہ
الجـــــوابــــــــــــ:بعون الملک الوھاب اللھم ہدایت الحق بالصواب خدائے تعالیٰ کی ذات کےلئےاوپروالابولناکفرہےکہ اس لفظ سےاس کےلئے جہت کاثبوت ہوتا ہے اور اس کی ذات جہت سےپاک ہے جیسا کہ حضرت علامہ سعدالدین تفتازانی رحمتہ اللہ علیہ تحریرفرماتے ہیں اذالم یکن فی مکانہ لم یکن فی جھۃ لاعلوولاسفل ولاغیرھما(شرح عقائد نسفی ص ٣٣ اورحضرت علامہ ابن نجیم مصری رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ تحریرفرماتے ہیں یکفربوصفہ تعالیٰ بالفوق اوبالتحت اھ تلخیصا(بحر الرائق ج،٥ ص، ١٢٠ لیکن اگرکوئی شخص یہ جملہ بلندی وبرتری کےمعنی میں استعمال کرےتوقائل پرحکم کفرنہ کریں گےمگراس قول کوبراہی کہیں گےاورقائل کواس سےروکیں گے فتاویٰ فیض الرسول جلداول صفحہ ٢/٣
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد ابراہیم خان امجدی عفی عنہ
الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر مشاہد رضا قادری رضوی عفی عنہ
(19) رمضان المبارک ۱۴۴۱ھ مطابق (13) مئی ٠٢٠٢ء بروز بدھ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں