اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
السوال کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ کوئی شخص سود بھی لیتا دیتا ہے اور مزدوری وغیرہ بھی کرتا ہے لہذا ایسے شخص کے یہاں کھانا جائز ہے یا نہیں اور بچوں کے رشتے وغیرہ کرسکتے ہیں یا نہیں مکمل وضاحت فرمائیں
الــسائــل: حافظ اطہر رضا دیوی پورہ بلاسپور رامپور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُہ
الجواب بعون الملڪ الوالھاب
صورت مسئولہ میں امـام اہـلسـنت عشق محبت حـضـور اعـلـیٰ حضرت تحریر فرماتے ہیں، سود لینے کو حلال جاننا کفر صریح ہے اور حرام جان کر ایك درہم سود کھانا اپنی ماں سے، 36، بار زنا کے برابر ہے، من اکل درھم ربًا وھو یعلم فکانما زنی بامہ ستا و ثلثین مرۃ، تـرجمــعـہ، جس نے عمدًا ایك درہم سود کھایا اس نے اپنی ماں سے چھتیس، 36،دفعہ زنا کیا فتاویٰ رضویہ جدید جلد ١۴،ص، ٣٨١,لـہــــذا←سود لینا گناہ کبیرہ ہے تو اس کا ارتکاب اگر چہ ایك ہی بار یقینا اجماعًا فاسق وبد دیانت کر دیگا جب کہ حرام جان کرکرے اور دارالاسلام میں جائز سمجھا تو فسق درکنار صریح کافر مرتد ہوجائے گا، ليكن سودخور کے یہاں کھانا نہ چاہئے مگر حرام و ناجائزنہیں،جب تك یہ معلوم نہ ہو کہ یہ چیزجو ہمارے سامنے کھانے کو آئی بعینہٖ سود ہے مثلًا ان گیہوں کی روٹی جو اس نے سودمیں لئے تھے یا سود کے روپے سے اس طرح خریدی گئی ہے کہ اس پر عقد و نقد جمع ہوگئے یعنی سود کا روپیہ دکھا کر اس کے عوض خریدی اور وہی روپیہ اسے دے دیا،جب تك یہ صورتیں تحقیق نہ ہوں وہ کھانا حرام ہے نہ ممنوع، فتاویٰ رضویہ جلد١٧ صفحه ٣٦١، مزدوری کے رقم سے بنا ہوا کھانا کوئی قباحت نہیں جائز ہے، سود خور کے حلال کمائی سے دعوت کھانے میں کوئی حرج نہیں کہ وہ مزدوری کا پیسہ حلال ہے، دوسری بات یہ ہے کہ سود کمانے اور کھانے والے کے یہاں جان بوجھ کر رشتہ نہ کرنا چاہیے جبکہ یہ تحقیق ہو کہ یہ سود کماتا, کھاتا اور کھلاتا ہے
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد اسمعیل خان امجدی عفی عنہ
الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد ابراہیم خان امجدی عفی عنہ
الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد مشاہر رضا قادری رضوی عفی عنہ
(۱۳) ذی الحجہ ۱۴۴۱ھ مطابق (۴) اگست ٠٢٠٢ء بروز منــگل

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں