کیا امــام مسجــد میں ســو سکتا ہــے؟

 


اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ

السوال کیافرماتےھیں مفتیان کرام  اس مسئلہ میں زید مسجد کا امام ھے اور وہ مسجد میں سوتا ھے کیا مسجد میں سونا جائزھے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی

 السائل؛ محمد علاؤالدین جھارکھنڈ

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ

الجواب بــعون الملڪ الوالھاب مسجد میں زید کا سونا منع ہے مگر جواز کا حکم اس طرح سے ہے جیسا کہ حضور اعلی حضرت عظیم البرکت اپنے فتوے میں تحریر فرماتے ہیں(۱) مسجد  میں معتکف کو سونا تو بالاتفاق بلاکراہت جائز ہے اور اس کے غیر کے لئے ہمارے علماء کے تین(٣) قول ہیں:اول یہ کہ مطلقًا صرف خلاف اولٰی ہے:صححہ فی الھندیۃ عن خزانۃ الفتاوی ومشی علیہ فی جامع الاسبیجابی کما نقلہ ابن کمال باشا والکافی فی معراج الدرایۃ والیہ یمیل کلام الدرفی الاعتکاف قلت وفیہ حدیث ابن عمر رضی ﷲ تعالٰی عنھما۔اس کی ہندیہ میں خزانۃ الفتاوٰی کے حوالے سے تصحیح کی ہے اور جامع الاسبیجابی نے اسی کو اختیار کیا، جیسا کہ اسے ابن کمال باشا نے نقل کیا اور کافی نے معراج الدارایہ میں ،اعتکاف میں درکا کلام بھی اسی طرف مائل ہے،میں کہتا ہوں اس میں حضرت ابن عمر رضی ﷲ عنہما کی حدیث ہے۔(۲) دوم مسافر کو جائز ہے اس کے غیر کو منع،، وبہ جزم فی الاشباہ وعلیہ مشی فی الدر قبیل باب الوتر۔اسی پر اشباہ میں جزم ہے ، در میں باب الوتر سے تھوڑا پہلے اسی کو اختیار کیا ہے، (۳) سوم معتکف کے سوا کسی کو جائز نہیں، وبہ جزم فی السراجیۃ وفی جامع الفتاوٰی ومنیۃ المفتی وغمزالعیون ومتن الوقایۃ وغیرھا من المعتمدات، سراجیہ، جامع الفتاوٰی، منیۃ المفتی، غمزالعیون، متن الوقایہ اور دیگر کتب میں اسی پر جزم کی گیا ہے، اور یہ کراہت کراہتِ تحریم ہے،لقولہ یمنع منہ وانما المنع عن المکروہ تحریما واماکراھۃ التنزیہ فتجامع الاباحۃ کمافی ردالمحتار وغیرہ، کیونکہ اس کا قول ہے: اس سے منع کیا گیا ہے اور، منع مکروہ تحریمی سے ہوتا ہے ، کراہت تنزیہی تو اباحت کے ساتھ جمع ہوجاتی ہے جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے، جو بخیالِ تہجّد یا جماعتِ صبح مسجد میں سونا چاہے تو اسے کیا مشکل ہے اعتکاف کی نیت کرلے کچھ حرج نہیں، کچھ تکلیف نہیں ، ایك عبارت بڑھتی ہے۔ اور سونا بالاتفاق جائز ہوا جاتاہے ،منیۃا لمفتی پھر غمز العیون اور سراجیہ پھر ہندیہ پھر ردالمحتار میں ہے، جب ارداہ کرے کھانے پینے کا ، تو اعتکاف کی نیت کرے ، پھر مسجد میں داخل ہوجائے ۔ پس ﷲ تعالٰی کا ذکر نیت کے مطابق کرے یا نماز پڑھے ، پھر وہاں جو چاہے کرے ،ردالمحتار باب الاعتکاف مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢/٢٤٦، فتاویٰ رضویہ جلد ٨ صفحہ ٩٥، لہذا امام صاحب مسجد میں سو سکتے ہیں عبادت کی نیت ہو تو مسجد میں داخل ہونے سے پہلے ہی اعتکاف کی نیت کر لیں اور مسجد میں داخل ہوکر پہلے کچھ ذکر الہی کر لیں پھر جب تک مسجد میں سوئیں گے  ثواب ملتا رہے گا ان شاء اللہ عزوجل

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر امجدی عفی عنہ 


الجواب صحیح والمجیب نجیح

‌ فقیر محمد اسمعیل خان امجدی عفی عنہ 


الجواب صحیح والمجیب نجیح

فقیر محمد ابراہیم خان امجدی عفی عنہ 


الجواب صحیح والمجیب نجیح

فقیر محمدمعصوم رضا نوریؔ عفی عنہ

(۴)  صفرالمظفر۔۱۴۴۲ھ مطابق (۲۲) ستمبر ٠٢٠٢؁ء بروز منگل

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...