اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
السوال علمائے دین شرع متین سے کچھ سوالوں کا جواب جاننا ہے کیا فرماتے ہیں مسئلہ ذیل میں
سوال نمبر(1) اگر کوئی انسان گناہ کبیرہ کا ارتکاب ہو تو کیا وہ کافر ہے مثلا شراب پیتا ہو چوری کرتا ہو نماز جان بوجھ کر قضا کرتا ہو
سوال نمبر(2) مسجد میں پیاز کھا کر جانا منع ہے یہ کس حدیث سے ثابت ہے حدیث تحریر فرمائیں اور مدلل جواب دیں
سوال نمبر(3) دیہات اور قصبوں میں جمعہ جائز ہے یا نہیں حدیث کے حوالے سے جواب دیں کیونکہ شہر اور قصبے کو بھی جاہل لوگ دیہات کہہ رہے ہیں
سوال نمبر(4)ایک شخص نے صدقہ نکالا اور اسے پھر واپس لے لیا اس شخص کے بارے میں جب کہ اس کے پاس کوئی مجبوری نہ ہو کیا حکم ہے حدیث کے حوالے سے جواب دیں
سوال نمبر(5) لوگ علم حاصل کرنے کے لیے دور دور تک سفر کرتے ہیں علم کی فضیلت بیان کر دیجئے حدیث کے حوالے سے،، ان سوالوں کے جوابات جلد از جلد چاہیے
الــسائلین چاند رسید فیضان عالم عبدالحمید سلیم انصاری جان بابو میاں سلیمان میاں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب
جواب نمبر(1) عن ابی الزبیر قال قلت لجابر بن عبد اللہ ماکنتم تعدون الذی نوب شر کا قال لا قال ابو سعید قلت یا رسول اللہ ھل فی ھذہ الامۃ ذنب تبلغ الکفر قال لا الاالشرک باللہ تعالیٰ، حضرت ابو زبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ سے دریافت کیا کہ کیا تم کبیرا گناہوں کو شرک شمار نہیں کرتے تھے کہا نہیں حضرت ابو سعید کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت سے پوچھا گیا کہ اس امت میں کوئی گناہ ایسا ہے جو کفر کی حد تک پہنچتا ہے آپ نے فرمایا نہیں سوائے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے کے، شراب نوشی کا ارتکاب کفر نہیں یہ دراصل خوارج کی تروید ہے جو اس کے قائل ہیں کہ گناہ کبیرہ کے ارتکاب سے مؤمن کا فر ہو جاتا ہے مزید یوں سمجھئےکہ یہ مسئلہ کئ شعبہ ہائے خیال بٹ جاتا ہے ایک طرف خوارج ہیں کہ ان کے نزدیک گناہ کبیرہ کا مرتکب ہونا گویا ایمانی سرحد کو پار کر کے کفر کی سرحد میں چلے جانا ہے ان کے سامنے اس قسم کی احادیث ہیں کہ مثلا فرمایا آنحضرت نے لا یزفی الزانی وھو مومن ولا یسرق السادق وھو مؤمن کے زناکار بحالت زنا کار ی مومن نہیں رہتا اور چور باحالت چوری مومن نہیں ہوتا، اور کئی ایک احادیث صحیحہ جن میں ان کے ایماندار ہونے کی وضاحت ہے ان کی نظروں سے اوجھل ہیں کہتے ہیں کہ ایمان لانے کے بعد کوئی گناہ مومن کے ایمان کو نقصان نہیں پہنچاتا ایمان کے بعد بے کھٹک کے جنت میں داخل ہوگا ان کے سامنے اس قسم کی احادیث ہیں مثلا آتجناب من قال لا الہ الا اللہ فقد دخل الجنہ کے جس نےکلمہ شہادت پڑھ لیا وہ جنت میں داخل ہوا یہ ان تمام آیت قرآنیہ و احادیث نبویہ سے اغماض برتتے ہیں جن میں اہل معاصی کے لئے سزا وعذاب کی وعید ہے مقزلہ نے بیچ کی راہ نکالی کہ مومن ہے نہ کافر کلمہ پڑھنے سے کفر سے نکل آئے اور گناہ کبیرہ سے ایمان سے خارج ہوا اس کو محض فاسق کہتے ہیں یہ گویا کفر و ایمان میں ایک درمیان جگہ مانتے ہیں، یہ حدیث ان لوگوں کی غلط فہمی کو بھی دور کرتی ہے جو حدیث من ترک الصلاۃ متعمد فقد کفر کے جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی وہ کافر ہوا کہ تحت ہر اس شخص کو کافر مانتے ہیں جو جان بوجھ کر نماز چھوڑ دیتے کیونکہ ان احادیث صحیحہ کے معانی کو اپنی جگہ برقرار رکھنا مجبور کرتا ہے کہ من ترک الصلاۃ عمدا جیسی احادیث کی تاویل کی جائے مگر یہاں یہ مطلب نہیں کہ نماز کا ترک ایمان سے نکل کر حقیقی کفر میں داخل ہو جاتا ہے بلکہ درحقیقت قرب کفرمراد ہے کہ نماز کے ترک سے کفر تک پہنچ جاتا ہے حدیث کی یہ ترجمانی کیوں نہ کی جائے جبکہ نفیس ایمان کی حقیقت اقرار شہاد تین سے زائد نہیں اور شارع اسلام اور صحابہ کرام کے نزدیک ہدایت ایمانی یاد عوت ایمانی اسی پر ختم ہوجاتی ہے چنانچہ فرمایا انحضرت نے من قال لا الہ الا اللہ فقد دخل الجنۃ یا فرمایا من شہدان لا الہ الا اللہ و ان محمد رسول اللہ حرم اللہ علیہ النار یااس قسم کے اور صحیح احادیث کہ ان میں دوزخ کا حرام ہونا یا جنت میں داخل ہونا محض کلمہ شہادت کے اقرار پر موقوف ہے، صاحب سنن ابو داود بھی حضرت انس سے اس مضمون کی مرفوع حدیث لائے ہیں کہ ایمان کی اصل تین چیزوں پر ہے کلمہ گو سے دست کش رہنا محض گناہ کی وجہ سے اس کو کافر نہ بنانا اور اس کو خارج از اسلام نہ جاننا طبرانی ابن عمر سے بعنیہ اسی مضمون کی مرفوع حدیث لائے ہیں کلمہ گو سے بعض رہو ان کو کافر نہ بناؤ جس نے اس کو کافر ٹھہرایا وہ خود کفر سے قریب ہوگیا، مسند امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ صفحہ ١٣
جواب نمبر(2)سمعت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنھما قال قال النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم من أکل من ھذہ الشجر ہ یرید الثوم فلا یغشا نا فی مسجد نا قلت مایعنی به قال ما اراه يعنى الا نيئه وقال مخلد بن يريد عن ابن جريح الا نتنه، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جو کس درخت یعنی لہسن سے کھائے وہ ہماری مسجد میں ہم سے نہ ملے عطاء نے کہا میں نے پوچھا اس سےکیا مراد تھی حضرت جابر نے بتایا کہ میرا گمان یہ ہے کہ کچا لہسن مراد ہےمخلد بن یزید نے ابن جریح سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی بدبو مراد ہے، حديث ٥٣٧ اذان باب ماجاء فى الثوم الني صفحه ١١٨ مسلم صلواة ترمزى اطعم نسائ صلوة وليمه، عن ابن عمر رضى الله تعالى عنهما ان النبى صلى الله تعالى عليه وسلم قال فى غزوة خيبرمن اكل من هذه الشجرة يعنى الثوم فلا يقر بن مسجد نا، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے غزوہ خیبر میں فرمایا جو اس درخت یعنی لہسن میں سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے، اذان باب ماجاء فی الثوم النبی ص ١١٨ مسلم صلوۃ ابوداؤد اطعم، یہاں باب میں یہ بھی ہے وقول النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم الخ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جو لہسن یا پیاز کھائے خواہ بھوک کی وجہ سے خواہ بغیر بھوک کے وہ ہماری مسجد کے قریب ہرگز نہ ہو ان الفاظ کے ساتھ کوئی حدیث مروی نہیں یہ امام بخاری کے تصرفات میں سے ہے انہوں نے روایت کیا ہے حضرت جابر کی اس حدیث کے بعض طرق میں البصل پیاز الکراث گندنا کا بھی اضافہ ہے اس لیے امام بخاری نے عنوان باب میں البصل کا اضافہ فرمایا کچے لہسن پیاز میں ایک تیزا و ناگوار بُو ہوتی ہے آنے کے بعد دیر تک منہ سے آتی رہتی ہے اس لیے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی پیاز کچا لہسن کھا کر مسجد میں آنے سے منع فرمایا اسی پر قیاس کرکے فقہاء نے فرمایا کہ پیاز کے تخصیص نہیں ہر ایسی چیز کھا کر مسجد میں آنا منع ہے جس منہ میں بدبو پیدا ہوتی ہے جیسے کراث گندنا یا بیڑی سگریٹ حقہ وغیرہ پی کر بد بو دور ہونے سے پہلے مسجد میں آنا بلکہ مطلقاً کوئی بھی بدبودار چیز مسجد میں لانا منع ہے، نزہتہ القاری۔ جلد دوم صفحہ ٥٠١
جواب نمبر(3) اور حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کبھی اپنے محل میں جمعہ پڑھتے اور کبھی محل میں نہ پڑھتے بصرہ آتے وہ زادیہ میں رہتے تھے جو بصرہ سے دو فرسنگ چھ میل کے فاصلے پر تھا، اس تعلیق کے دو جز ہیں ایک یہ کہ زادیہ میں جمعہ پڑھتے دوسرا یہ کہ وہاں نہیں پڑھتے بصرہ آکر پڑھتے جزء اخیر کو ابن ابی شیبہ نے اپنے مصنف میں روایت کیا ہے زادیہ بصرہ سے ملحق ایک بستی کا نام ہے امام بخاری کا مقصود غالبا یہ ہے کے دیہاتوں پر شہر میں آکر جمعہ پڑھنا فرض نہیں لیکن اگر اکر پڑھ لیں تو بہتر ہے زادیہ جہاں تھا وہاں حضرت انس کے جمعہ پڑھنے پر دو اشکال ہے ایک یہ کہ وہ زادیہ میں جمعہ کیسے پڑھتے تھے دوسرے وہاں کوئی حاکم نہیں تھا یہ از خود کیسے جمعہ قائم کرلیتے تھے، جواب یہ ہے کہ یہ کیسے معلوم کہ زادیہ دیہات تھا ہو سکتا ہے کہ قصبہ اور شہر رہا ہوں نیز کیسے معلوم کہ وہ بلا اذان حاکم جمعہ پڑھتے تھے ہو سکتا ہے انہیں اس کا من جانب حاکم اذان رہا ہو۔ اگر نہ بھی ہو تو جہاں حاکم نہیں وہاں کے باشندوں کو جمعہ قائم کرنے کا حق ہے نیز جہاں حاکم نہ ہو وہاں اعلم علماء بلد کو اقامت جمعہ کا حق ہے جیساکہ فتاویٰ رضویہ جلد سوم میں متعدد جگہ اس کی تصریح ہے اور ظاہر ہے کہ حضرت انس اس بستی میں اعلم علماء تھے، علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللّٰہ علیہ ایک حدیث کی تشریح میں تحریر فرماتے ہیں مدینہ طیبہ کی مشرقی بالائی حصے کا نام ہے جس کا فاصلہ مسجد نبوی سے دو مل سے لے کر آٹھ مل تک ہے ایک حدیث میں وارد ہے اس شخص پر جمعہ ہے جو رات کو گھر واپس ہو سکے نیز یہ بھی مروی ہے کہ اہل قبا کو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جمعہ کا حکم دیا اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دیہات کے باشندوں پر بھی جمعہ ہے اس کے ازالے کے لئے امام بخاری نے یہ باب باندھا کہ کتنی دور سے جمعہ کے لئے آیا جائے حدیث مذکور سے ثابت ہوا کہ دیہات والوں پر جمعہ فرض نہیں لیکن اگر وہ شہر میں آکر پڑھ لیں تو بہتر ہے اس لیے کہ اگر دیہات والوں پر جمعہ فرض ہوتا تو ہر مکلف حاضر ہوتا لوگ باری باری کیوں حاضر ہوتے حدیث صحیح نہیں خود امام ترمذی نے اسے ضعیف کہا ہے امام احمد نے فرمایا کہ یہ کچھ نہیں اور بھی اس میں سقم ہے اور اہل قبا کو حکم دے نہ حصول فضیلت کے لئے تھا یہی ہمارا مذہب ہے کہ جمعہ صرف شہر اور قصبے کے لوگوں پر فرض ہے دیہات والوں پر نہیں، لیکن دیہاتوں میں تو امام بخاری جو اثی میں جمعہ کے قیام سے اس پر دلیل لائےمگر آپ نے دیکھا کہ وہ تمام نہیں اس لئے کہ جواثی دیہات نہیں شہر تھا اس حدیث سے اس پر کسی طرح دلیل نہیں قائم ہوئی البتہ یہ جگہ اگر دیہات تھی تو ابن شہاب کے حکم سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دیہات میں جمعہ درست ہے مگر ابن شہاب تابعی ہیں اور تابعی کا قول ہم پر صحت نہیں خصوصا جب کہ حدیث کے معارض ہو عدوہ ازیں اس کا بھی احتمال ہے کہ وہ جگہ فناء شہر میں رہی ہو اور رزیق کو فنائے شہر کا حکم معلوم نہیں تھا تو ابن شہاب سے پوچھا اس حدیث سے ثبوت اس طرح ہوتا ہےکہ جب حاکم پر بلکہ ہر شخص پر اپنی رعایا کی نگہبانی فرض ہے نگہبانی میں یہ بھی داخل ہے کہ رعایا گناہ میں مبتلا نہ ہوں جمعہ فرض ہے اور ترک فیض گناہ اس لیے نگہبانی کی فرع یہ بھی ہے کہ جہاں جمعہ فرض ہو اور قائم نہ ہو وہاں قائم کیا جائے تاکہ لوگ گناہ سے محفوظ رہیں، نزہتہ القاری جلد دوم صفحہ ٥٣٠/٥٣٦/٥٣٥/ان تمام مرویات بالا عبارت احادیث کی روشنی سے پتا چلتا ہے کہ جس قصبے یا گاؤں میں حاکم انصاف کرنے والا یہ مفتی قاضی یہ اعلم علماء جمعہ قائم کرنے والے موجود ہیں وہ دیہات نہیں شہر یا قصبہ یا فنائے مصر جس جگہ پر جمعہ جائز ہے اس جگہ کو دیہات نہ کہا جائے
جواب نمبر(4) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ بِالصَّدَقَةِ، ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ فَأَكَلَهُ، سیدنا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص صدقہ دے کر واپس لیتا ہے اس کی مثال کتے کی سی ہے جو قے کرتا ہے اور خود اپنی قے کو کھا لیتا ہے، سنن نسائی مترجم جلد ٣/صفحہ ١٠/ ٢٧٢٧/، صدقہ واپس لینے کی چند صورتیں ہیں:دیکر واپس لے لینا،دیکر خرید لینا،دینے کے بعد بطور میراث پھر صدقہ کا لوٹ آنا،پہلی صورت بالکل ناجائز ہے اور تیسری صورت بالکل جائز،دوسری صورت میں کچھ تفصیل ہے۔خیال رہے کہ ہدیہ دے کر واپس لینا جائز ہے اگرچہ بہت برا۔اس کی بحث پہلے ہوچکی مگر صدقہ دیکر واپس لینا جائز ہی نہیں، روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتےہیں کہ میں نے کسی کو ﷲ کی راہ میں گھوڑا دیا ۱؎ جس کے پاس وہ گھوڑا تھا اس نے اسے بربادکردیا ۲؎ میں نے چاہا کہ گھوڑا خریدلوں میرا خیال تھا کہ سستا بیچ دے گا۳؎ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ نے فرمایا اسے نہ خریدو اور اپنا صدقہ واپس نہ لو اگرچہ تمہیں ایک درہم میں دے دے ۴؎ کیونکہ اپنے صدقہ میں رجوع کرنے والا اس کتے کی طرح ہے جو جو قے کرکے چاٹ لے،ایک اور روایت میں ہے صدقہ واپس نہ لو کہ اپنے صدقہ میں رجوع کرنے والا ایسا ہے جیسے اپنی قے دوبارہ کھالینے والا ہے ۵؎(مسلم،بخاری)(1) ؎ بطور خیرات تاکہ اس پر جہاد وغیرہ کیا کرے،عاریۃً دینا مراد نہیں بلکہ مالک بنادینا مراد ہے (2)؎ اس طرح کہ اس کی خدمت کم کی جس سے وہ کمزور و دبلا ہوکر گویا برباد ہی ہوگیا(3)؎ یا اس لیے گھوڑا کمزور ہوچکا ہے جس سے اس کی قیمت گھٹ گئی یا اس لیے کہ میں اس کا محسن ہوں مجھے رعایت سے دے گا کیونکہ احسان کا بدلہ احسان ہے دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے (4)؎ اس جملہ کی بناء پر بعض علماء فرماتے ہیں کہ اپنے دیئے ہوئے صدقہ کا خریدنا حرام ہے مگر حق یہ ہے کہ مکروہ تنزیہی ہے اور کراہت کی وجہ بھی یہ ہے کہ اس موقعہ پر فقیر صدقہ دینے والے کی گزشتہ مہربانی کا خیال کرتے ہوئے اسے سستا دے دے گا اور یہ قیمت کی کمی صدقہ کی واپسی ہے مثلًا اگر سو روپیہ کا مال اس نے ۸۰ میں دے دیا تو گویا صدقہ دینے والے نے بیس روپیہ صدقہ کرکے واپس لے لئے،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ ملک بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں۔اس کی مثال بالکل یوں سمجھ لوکہ اگر تم نے اپنے پڑوسی فقیر کو صدقہ دیا اس نے اس مال کا کھانا پکاکر تمہاری دعوت کی یہ اگر اس مہربانی کے شکریہ میں ہو تو وہ دعوت ناجائز ہے اور اگر عام دعوت تھی جس میں اتفاقًا تمہیں بھی بلالیا گیا ہو تو کوئی مضائقہ نہیں
(5) ؎ اس تشبیہ سے معلوم ہورہا ہے کہ ممانعت تنزیہی ہے کیونکہ کتے کے اپنی قے کو چاٹ لینے سے اس کا پیٹ تو بھر ہی جائے گا مگر یہ کام گھناؤنا ہے ایسے ہی اپنے صدقہ کو خریدلینے سے ملکیت تو حاصل ہو ہی جائے گی اگرچہ کام بہت برا ہے،یہی تشبیہ ہبہ واپس لینے والے پربھی دی گئی ہے حالانکہ ہبہ کی واپسی بالاتفاق جائز ہے اگرچہ مکروہ ہے
باب من لایعود فی الصدقۃ مراۃ المناجیح جلد ٣ حدیث ١٨٠
جواب نمبر(5) عَن كثير بن قيس قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي مَسْجِد دمشق فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ إِنِّي جِئْتُكَ مِنْ مَدِينَةِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا جِئْتُ لِحَاجَةٍ قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ وَإِنَّ الْعَالِمَ يسْتَغْفر لَهُ من فِي السَّمَوَات وَمَنْ فِي الْأَرْضِ وَالْحِيتَانُ فِي جَوْفِ الْمَاءِ وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ وَإِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ وَإِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَإِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَسَمَّاهُ التِّرْمِذِيُّ قَيْسَ بن كثير، کثیر بن قیس بیان کرتے ہیں ، میں ابودرداء ؓ کے ساتھ دمشق کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور اس نے کہا : ابودرداء ! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہر سے ایک حدیث کی خاطر تمہارے پاس آیا ہوں ، مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (براہ راست) بیان کرتے ہیں ۔ میں کسی اور کام کے لیے نہیں آیا ، انہوں نے بیان کیا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص طلب علم کے لیے سفر کرتا ہے تو اللہ اسے جنت کی راہ پر گامزن کر دیتا ہے ، فرشتے طالب علم کی رضامندی کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں ، زمین و آسمان کی ہر چیز اور پانی کی گہرائی میں مچھلیاں طالب علم کے لیے مغفرت طلب کرتی ہیں ، بے شک عالم کی عابد پر اس طرح فضیلت ہے جس طرح چودھویں رات کے چاند کو باقی ستاروں پر برتری ہے ، بے شک علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں ۔ اور انبیاء علیہم السلام درہم و دینار نہیں چھوڑ کر جاتے بلکہ وہ تو صرف علم چھوڑ کر جاتے ہیں ، پس جس نے اسے حاصل کر لیا اس نے وافر حصہ حاصل کر لیا ۔‘‘ امام ترمذی نے راوی کا نام قیس بن کثیر ذکر کیا ہے، سندہ ضعیف ، رواہ احمد، ۵/ ۱۹۶ ح ۲۲۰۵۸، و الترمذی، ۲۶۸۲، وابوداؤد ۳۶۴۱
وابن ماجہ، ۲۲۳، والدارمی، ۱/ ۹۹ ح ۳۴۹، و ابن حبان ۸۰، ماخوذ مشکاۃ المصابیح حدیث ٢١٢،حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا علم کی فضیلت عبادت سے زیادہ ہے اور دین کا اور دین کا سرمایا بقا تقوی ہے، مسند شہاب مترجم صفحہ ۵۵
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد اسمعیل خان امجدی عفی عنہ
الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد ابراہیم خان امجدی عفی عنہ
(25) ماہ محرم الحرام مبارڪ ہو۔۱۴۴۲ھ مطابق (14) ستمبر ٠٢٠٢٠ء بروز دوشنبہ
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں