اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ
الـســــوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید فجر کی نماز کے لیے مسجد پہنچا کہ امام صحاب جماعت کھڑی کر چکی تھی رکوع میں جاچکا تھا پہلے رکعت کی اس صورت حال میں زید سنت پڑے گا یا امام کی اقتدا کرے گا یعنی جماعت میں شریک ہوگااگر جماعت میں شریک ہوتا ہے تو پھر سنت بعد فجر فور یا سورج طلوع ہونے کے بعد پڑھیں گے مدلل اور مفصل جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں
الســائل محمد ناہید رضا پورنیہ بہار
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہ
الجـــــوابــــــــــــ:بعون الملک الوھاب اللھم ہدایت الحق بالصواب
اسی طرح کےایک سوال کے جواب میں حضور اعلٰی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان تحریرفرماتے ہیں کہ اگرجانتاہےکہ سنتیں پڑھ کرجماعت میں شامل ہوسکےگااورصف سے دورسنتیں پڑھنےکوجگہ ہے توپڑھ کرملےورنہ بےپڑھےپھر بعد بلندی آفتاب پڑھے اس سےپہلےپڑھناگناہ ہے کان میں آوازآنے کااعتبارنہیں امام اندرپڑھ رہا ہو با ہر پڑھے باہر پڑھتا ہو تو اندر پڑھے حد مسجد کے باہر پاک جگہ پڑھنے کو ہو تو سب سے بہتر فتاویٰ رضویہ قدیم جلد سوم صفحہ ٣٧۰خلاصہ زیدکویہ معلوم ہوکہ اگر سنت پڑھوں گا اور جماعت بھی مل جائے گی اگرچہ قعدہ میں اورصف سے دور ہٹ کر سنت پڑھنےکی جگہ بھی ہو توسنت پڑھ کر جماعت میں شامل ہو اور اگر زید کو یہ معلوم ہوکہ سنت پڑھوں گا توجماعت میں شامل نہیں ہو سکتا یاصف سے ہٹ کر سنت پڑھنے کی کی جگہ نہیں ہےتوجماعت میں شامل ہوجائیے بعد بلندی آفتاب سنت پڑھے
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی بلرامپوری عفی عنہ خطیب وامام غوثیہ مسجد بھیونڈی مہاراشٹر
الجواب صحیح فقیرمحمد امتیازقمررضوی امجدی گریڈیہ جھارکھنڈ
(٢٣)رمضان المبارک ۱۴۴۱ھ مطابق (١٦) مئی ٠٢٠٢ء بروز اتوار

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں