اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ
الـســــوال مفیتان کرام سے عرض ہے صدقہ فطر کس پر واجب ہوتا ہے جواب عطاء فرما دیں جزاک اللہ خیرا کثیرا
الســائل ہاشم ملتان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہ
الجـــــوابــــــــــــ:بعون الملک الوھاب اللھم ہدایت الحق بالصواب
صدقۂ فطر ہر اس مسلمان پر واجب ہوتا ہے جو مالک نصاب ہو خواہ وہ روزہ رکھے یانہ رکھے اور چاہے وہ مرد ہو یا عورت،پاگل ہو یا نابالغ، درمختار میں ہے تجب على كل مسلم ولوصغيرامجنوناذى نصاب فاضل عن حاجه الا صلية وان لم ينم اھ تلخیصا۔ معلوم ہونا چاہئے کہ زکاۃ کے نصاب میں مال کا نامی ہونا شرط ہےیعنی ساڑھے سات تولہ سونا،ساڑھے باون تولہ چاندی یا ان میں سے کسی ایک کی قیمت کاسامان تجارت یاروپیہ کاحاجت اصلیہ سے زائد ہونا ضروری ہے اور وجوب زکوٰۃ کے لئے صاحب نصاب کاعاقل وبالغ ہونا بھی شرط ہے۔ اور صدقہ فطر کے نصاب میں مال کا نامی ہونا شرط نہیں یعنی اگرکسی کے پاس سونا،چاندی کانصاب نہ ہواورنہ ان میں سے کسی ایک کی قیمت کاسامان تجارت روپیہ ہومگرحاجت اصلیہ سےزائدسامان غیرتجارت ہوتوصدقہ فطرواجب ہوجائےگا مثلاً کسی کےپاس تانبہ پیتل کےبرتن ہوں مگر تجارت کےلئے نہ ہواورحاجت اصلیہ سےزائدہوں اوران کی قیمت سونایاچاندی کےنصاب برابر ہوتوان برتنوں کے سبب صدقۂ فطرواجب ہوجایےگا مگرزکوۃ واجب نہ ہوگی۔اورصدقۂ فطرمیں صاحب نصاب کاعاقل وبالغ ہوناشرط نہیں جیسا کہ درمختار کی منقولہ عبارت سےظاہرہے۔ھکذا فتاوی فیض الرسول جلداول صفحہ ٥٠٦
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی بلرامپوری عفی عنہ خطیب وامام غوثیہ مسجد بھیونڈی مہاراشٹر
(٢٣)رمضان المبارک ۱۴۴۱ھ مطابق (١٦) مئی ٠٢٠٢ء بروز اتوار

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں