طالب علم دین کو زکوۃ وفطرہ دینا شرعا کیسا ہے؟

 


 اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ

السوال السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ علمائے کرام کی بارگاہ میں عرض ہےکیا زکوۃ اور فطرہ کی رقم مدرسے کہ بچوں کو دینے سے زکوٰۃ اور فطرہ ادا ہو جائے گا

دوسری بات کیا بچوں کا غریب  ھونا شرط ہے یا یتیم ہونا شرط ہے یا پھر مدرسے میں جو امیر بچے پڑھتے ہیں کیا ان کو زکوٰۃ فطرہ دینے سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی تیسری بات یا وہ بچے لے سکتے ہیں جو مسافر ہیں اور مدرسہ کے مسافر بچے کے لئے کتنا دوری ہونا چاہئے چوتھی بات کیا ان بچوں کو بھی دینے سے ادا ہوجائے گا جو گاؤں میں رہ کر پڑھتے ہیں پانچویں بات وہ بچے جن کا مدرسہ سے گھر بہت قریب ہے پھر بھی مدرسے میں رہتے ہیں اور کھاتے ہیں اور ان کے گھر والوں کو دیکھاتو سب امیر بھی ہے غریب نہیں ہیں تو کیا ان امیر بچوں کو جو مدرسے میں رہتے اور کھاتے ہیں ان کو زکوۃ فطرا دینے سےزکوۃ فطرہ ادا ہو جائے گا اس پر تفصیلی جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی اور شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں

الســائل  غلام جبریل خان قادری بہرائج شریف یوپی انڈیا یا

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہ

الجـــــوابــــــــــــ: بعون الملک الوہاب صدقۂ واجبہ مثلاًزکاۃ وفطرہ،عشر مدرسےکےبچوں کودےسکتےہیں جب کہ وہ اس کے مستحق ہوں  یعنی اگربالغ بچےہوں اورمالک نصاب نہ ہوں یا نابالغ بچہ ہواور اس کا باپ مالک نصاب نہ ہواوربچہ تملیک کی قدرت رکھتاہواتناچھوٹانہ ہوکہ وہ تملیک کی قدرت نہ رکھے اس صورت میں ایسےبچوں کوزکوۃ دےسکتے ہیں چاہیں وہ قریب کےبچے ہوں یادورکےیاگاؤں میں پڑھنےوالےہوں یامسافربچےہوں وغیرہ وغیرہ اس کالحاظ نہیں صرف اس کالحاظ کیاجائے گاکہ وہ مستحق ہیں یانہیں۔جیساکہ حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ تحریرفرماتے ہیں کہ طالب علم دین اگربالغ اورمالک نصاب ہےیانابالغ ہے اور اس کا باپ مالک نصاب ہےتوصدقۂ واجبہ کواپنےمصرف میں نہیں لاسکتا اوراگربالغ ہے اور مالک نصاب نہیں ہے توصدقۂ واجبہ کواپنےمصرف میں لاسکتا ہے۔فتاویٰ فیض الرسول جلداول صفحہ ٤٩٦ مسافر کے لئے جو مسافت شرع نے مقر کی ہے تقریباً ٩٢ کلو میٹروہی طالب علم کے لئے بھی ہے جب کہ طالب علم اپنےگھرسے تقریباً ٩٢کلومیٹرکی دوری پرگیاعلم حاصل کرنےاورپندرہ دن سے کم رکنے کاارادہ ہے تووہ مسافرہےورنہ نہیں

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی بلرامپوری عفی عنہ خطیب وامام غوثیہ مسجد بھیونڈی مہاراشٹر

الجواب صحیح والمجیب نجیح

فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ خطیب وامام رضا نگر گینرو بینگا باد گریڈیہ جھار کھنڈ

 ( 24)رمضان المبارک ۱۴۴۱؁ھ مطابق (18) مئی ٠٢٠٢؁ءپیر

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...