اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ
السوال اگر کسی کے گاؤں میں کسی غیر مسلم کی طبیعت خراب ہو اور اس کے پاس پیسے نہ ہو تو کیا اس کو زکوٰۃ کا پیسہ دے سکتے ہیں۔ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
الســائل عرفان رضا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہ
الجـــــوابــــــــــــ: بعون الملک الوہاب غیر مقلد کو زکوۃ دینا حرام ہے اور اس کو دینے سے زکوۃ ادا نہیں ہوئی اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ عنہ کافر مشرق وہابی رفاضی قادیانی وغیرہ کو زکوۃ دینے کے متعلق تحریر فرماتے ہیں ان کو زکوۃ دینا حرام ہیں اور ان کو دئیے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی فتاوی رضویہ جلد چہارم صفحہ ٤٩١ فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ ٣١٥ لہذا کافر بیمار ہو پھر بھی زکوۃ اس کو نہ دیں ورنہ زکوۃ ادا نہ ہوگی
وَاللّٰــــهُ تَعَـــالــٰی اَعـــلَمُ بِــالصَّــــوَاب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ خطیب وامام رضا نگر گینرو بینگا باد گریڈیہ جھار کھنڈ
الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد اسماعیل خان القادری الرضوی الامجدی صاحب قبلہ مدظلـہ العـالی والنورانـی
(٢٥) رمضان المبارک ۱۴۴۱ھ مطابق (١٩) مئی ٠٢٠٢ء بروز منگل

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں