اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ
الـســــوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید نے اپنے بیٹے عمر سے کہا تمہاری ماں کو طلاق دیا لے جا یہ لفظ دو تین بار بولا تو کیا ہندہ پر طلاق ہوئی کے نہیں اگر ہوئی ہے تو ایک یادویاتین قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں
السـائل محمد عباس علی برکاتی چیرواں شریف جھارکھنڈ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہ
الجـــــوابــــــــــــ: بعون الملک الوہاب
اگر ایسا ہی ہے جیسا سوال میں لکھا ہوا ہے کے زیدنے اپنے بیٹے عمر سے کہا تمہاری ماں کوطلاق دیا اور تین مرتبہ کہا تو طلاق مغلظہ واقع ہو گٸ اب جبکہ زید کی بیوی پر طلاق مغلظہ واقع ہوگئی تو دونوں فوراً ایک دوسرے سے جداٸ اختیار کریں ہاں اگر زید اس کو پھر رکھنا چاہتا ہے تو عورت عدت گزرنے کے بعددوسرے سے شراٸط نکاح کے ساتھ نکاح کرے پھر وہ اس عورت سے ہمبستری کرے جس میں دخول شرط ہے پھر طلاق حاصل کرے یا شوہر ثانی مر جائے پھر دوبارہ عدت گزارنے کے بعد شوہر اول کے ساتھ عقد کر سکتی ہے*ھکذا فی
فتاوی فیض الرسول جلد دوم صفحہ ۱۱۷
وَاللّٰــــهُ تعـــالــی اَعـــلَمُ بِــالصَّــــوَاب
کتبـــــــــــــــــــــــــہ فقیر محمــــــــد امــتـیـاز قـمـر الـقــادری رضـــوی عـفـی عــنـہ صـاحـب قبـلـہ مـدظلــہ الـعالـی والـنـوارنــی*مــدنـگـنـڈی بـلـیـابــرنــی خـطـیــب وامــام رضـــانــگــر گـیـنــرو بـیـنـگا بـاد گــریـڈیــہ جـھـار کـھـنـڈ
الجواب صحیح والمجیب فقیر محمد مشاہد رضا حشمتی عفی عنہ
مورخہ 01/06/2020

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں