جس کے پاس مال نہ ہو سونا چاندی نہ ہو اور اس کے پاس باغ ہے کیا باغ سے زکوٰۃ دے سکتا ہےیا نہیں



 اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ

الـســــوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے پاس زکوۃ دینے کے لئے پیسہ نہیں مال تجارت نہیں گھر میں نہیں گھر میں اتنا مال نہیں کہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت ہو میرے پاس صرف آم کے باغیچےیعنی باغ ہیں اور اس کے علاوہ کچھ نہیں ایسی صورت میں زکوۃ واجب ہے یا نہیں

السـائل  محمد اختر پرواز کراچی پاکستان

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہ

الجـــــوابــــــــــــ: بعون الملک الوہاب

صورت مستفسرہ میں بر صدق مستفتی محض درخت پر زکوۃ واجب نہیں  ہاں اگر وہ درخت پر پھل لگتا ہو تو پھل پر عشرہ واجب ہے فتاوی فقیہ ملت میں ہےجس کے پاس درختوں کے علاوہ سونا چاندی نہیں اور نہ ہی مال تجارت ہےنہ اتنے روپے ہیں کہ بازار میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا خرید سکتا ہے تو اس پر زکات واجب نہیں اس لیے کہ درخت پر عشرہ زکوۃ نہیں البتہ ان کے پھلوں میں عشر واجب ہے خواہ تھوڑے ہوں یا زیادہ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں جو چیز زمین کے تابع ہو جیسے درخت اس میں عشر نہیں*بہار شریعت حصہ پنجم صفحہ ۵۳- حضرت علامہ ابن نجیم علیہ الرحمتہ تحریر فرماتے ہیں*لاعشرفیماھواتابع للارض کالنخل والاشجارلانه بمنزلۃ جزءالارض' بحرالرائق جلددوم صفحہ ٢٣٨

فتاویٰ فقیہ ملت جلد اول صفحہ٢٩٨

وَاللّٰــــهُ تعـــالــی اَعـــلَمُ بِــالصَّــــوَاب

کتبـــــــــــــــــــــــــہ محمــــــــد امــتـیـاز قـمـر الـقــادری رضـــوی عـفـی عــنـہ صـاحـب قبـلـہ مـدظلــہ الـعالـی والـنـوارنــی*مــدنـگـنـڈی بـلـیـابــرنــی خـطـیــب وامــام رضـــانــگــر گـیـنــرو بـیـنـگا بـاد گــریـڈیــہ جـھـار کـھـنـڈ

 الـجـواب صـحـیــح  فقیر محمد مشاہدرضاحشمتی عـفـی عــنـہ صـاحـب قبـلـہ مـدظلــہ الـعالـی والـنـوارنــی

مورخہ 04/06/2020

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...