_السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ_
_کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز روزہ حج اور فاتحہ خوانی وغیرہ قرآن شریف کی تلاوت یہ سب مردہ یا زندہ کو ایصال ثواب کرسکتے ہیں_
_سائل اسلام رضا رضا نگر گریڈیہ_
_____________________________________
_وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ تعالی وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب_
_جی ہاں زندہ ہو یا مردہ دونوں کو بخشنا جائز ہے بلکہ ثواب بھی جیسا کہ مفکر اسلام علامہ جلال الدین علیہ الرحمۃ والرضوان کے کتاب میں ہےاپنے تمام اعمال نماز و روزہ اور حج و زکوٰۃ وغیرہ ہر قسم کی نیکیوں کا ثواب زندہ اور مردہ دونوں کو بخشنا جائز ہے جیسا کہ فتاوی عالمگیری جلد اول مصری صفحہ ۲۴۰�_ میں ہے _ان الانسان لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلاۃ کان اوصوماان صدقتہ اوغیرھاکالحج وقرأۃ القرآن والاذکاروزیارۃ قبور والانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام والشہداء والاولیاء والصالحین وتکفین الموتیٰ وجمیع انوارالبر۔یعنی اپنے عمل نماز روزہ زکوۃ حج قراۃ قران واذکار کا ثواب اور انبیاء علیہ الصلاۃ و السلام شہدائے اسلام اولیائے کرام اور بزرگان دین کی قبروں کی زیارت کا ثواب اور مردوں کی تجہیز و تکفین وغیرہ ہر قسم کی نیکیوں کا ثواب دوسرے کو بخشنا جائز ہے حوالہ فتاوی برکاتیہ دوم صفحہ ۲۶۷
_واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب_
کتبہ محمد امتیاز قمر رضوی مدن گنڈی بلیابرنی خطیب وامام رضانگرگینروبینگابادگریڈیہ جھارکھنڈ انڈیا_
_الجواب صحیح فقیرمحمد اسماعیل خان صاحب امجدی مدظلہ العالی والنورانی دولھاپورپہاڑی پوسٹ انٹیاتھوک بازار گونڈہ یوپی
مورخہ 01/04/2020

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں