قربانی کا گوشت کتنے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن کے یہاں قربانی ہوتی ہے کیا انہیں گوشت دے سکتے ہیں



اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
 الســـــــــــــوال کہ قربانی کا گوشت کو  کتنے حصوں میں تقسیم کرنا لازم ہے اور ان حصوں پر کس کس کا حق ہوتا ہے کیا ان لوگوں کے گھر بھی قربانی کا گوشت بھیج سکتے ہیں جن کے گھر قربانی کا اہتمام ہوتا ہے۔
الســائــل,: محمد شفاعت رضا جموں و کشمیر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ 
الجوابـــــ بــعون الملڪ الوالھابـــــ
حضور اعلی حضرت حضرت  عظیم البرکت تحریر فرماتے ہیں
*مستحب یہ ہےکہ گوشت کے تین حصے کرے۔ایك حصہ اپنا،ایك احباب کا ایك مساکین کا،۳پیش امام کا اس میں کوئی حق نہیں،دو تو اختیار ہے۔لیکن اگر وہ اس کا نوکر ہے تو تنخواہ میں نہیں دے سکتا،۴مسجد اور مدرسہ دینیہ دونوں میں صرف کرنا جائز۔۵حجام کا اس میں کوئی حق نہیں،دینے کا اختیار ہے۔
((فتاوی رضویہ جلد ٢٠ص٤٨٥))

حضور صدرالشریعہ تحرير فرماتے ہیں
*بہتر یہ ہے کہ گوشت کے تین حصے کرے ایک حصہ فقرا کے لیے اور ایک حصہ دوست و احباب کے لیے اور ایک حصہ اپنے گھر والوں  کے لیے، ایک تہائی سے کم صدقہ نہ کرے۔ اور کل کو صدقہ کر دینا بھی جائز ہے اور کل گھر ہی رکھ لے یہ بھی جائز ہے۔ تین دن سے زائد اپنے اور گھر والوں  کے کھانے کے لیے رکھ لینا بھی جائز ہے اور بعض حدیثوں  میں  جو اس کی ممانعت آئی ہے وہ منسوخ ہے اگر اس شخص کے اہل و عیال بہت ہوں  اور صاحب وسعت نہیں  ہے تو بہتر یہ ہے کہ سارا گوشت اپنے بال بچوں  ہی کے لیے رکھ چھوڑے۔ 
الھندیۃ‘‘،کتاب الأضحیۃ،الباب الخامس فی بیان محل إقامۃ الواجب،ج۵،ص۳۰۰
((بہارشریعت۔حصہ پانزدہم))
 حضور اعلی حضرت حضرت  عظیم البرکت تحریر فرماتے ہیں قربانی کا گوشت وغیرہ مالدارکو دینا بھی جائز ہے۔
((فتاوی رضویہ جلد  ٢٠ص٥١٠))
 مذکورہ کلام سے ظاہر وباہر ہوگیا۔صاحب قربانی کے یہاں بھی گوشت بھیج سکتے ہیں
 وَالــلّٰـہُ اَعْــلَمُ بِـــاالصَّـــــوَابـْــــ کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ فـقــیـر مـحــمـد امتـیـازقــمـررضــوی امـجـــدی عـفی عنــہ  گــریڈیـہ جھـار کھنـڈ
الجوابــــــ صحیح
فقیــــر محمـــــد اسمــــاعیـــل خـــان القــــادری الـرضـــوی الامجـــــــدی صـــاحب قبلـــہ مــدظلـہ العـالی والنـــورانـی گـــونڈہ یـــوپـی

الجوابــــــ صحیح
فــقیر مــحـمد ابـراہــیم خـان امـجــدی قــادری رضــوی بـلرامپـــوری عــفی عــنـہ بـلرامپـــوری
 (٨)  ذی الحجہ ۱۴۴۱؁ھ مطابق (٢٩) جولائی ٠٢٠٢؁ء بروز بدھ*
____________________________________


The sacrificial meat is divided into how many parts. Can the sacrificial meat be given to those who have it?




Seek help from Allah said Barakatuh
  The question is how many parts of the sacrificial meat must be divided and who has the right to these parts?
 Question: Muhammad Shafaat Raza Jammu and Kashmir

Allah Bless You too
 The answer is with the king of love
 Hazrat Azeem Al-Barakat writes:
 * It is mustahab to make three parts of the meat. One part is for oneself, one part is for the friends and one is for the poor. The imam has no right in it, he has two options.  And it is permissible to spend it in both religious schools.
 ((Fatawa Rizviyah ))

 The Holy Prophet writes
 * It is better to give three parts of meat, one part for the poor and one part for friends and one part for one's family, not less than one third.  And it is permissible to give alms tomorrow, and it is also permissible to keep it at home tomorrow.  It is also permissible to keep it for more than three days for food for oneself and one's family, and what is forbidden in some hadiths is abrogated.  Leave the meat to your children.
 Al-Hindiyyah, Book of Sacrifice, Chapter Five in the Statement of the Place of Obligation, Volume 2, Page 3
 ((Bihar Shariat - Part 15))
 Ala Hazrat Azeem Al-Barakat writes: It is also permissible to give sacrificial meat to the rich.
 ((Fatawa Rizviyah ))
  It has become clear from the above-mentioned words. You can also send meat to the place of sacrifice
  And Allaah knows best
 Written by Faqir Mohammad Imtiyaz Qamar Razavi Amjadi Afi Anahu Giridih Jharkhand
 The correct answer
 Faqir Muhammad Ismail Khan Al-Qadri Al-Razavi Amjdi Sahib Qiblah Madzala Al-Ali and Noorani Gundah u.p.

 The correct answer
 Faqir Mohammad Ibrahim Khan Amjadi Qadri Rizvi Balrampuri Afi Anahu Bilrampuri
  (1) According to Dhi Al-Hijjah 2 AH, (2) July 3rd on Wednesday
____________________________________

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...