الســلام علیکم ورحمتـــہ اللہ وبـرکـاتـہ
علماۓکرام کی بارگاہ میی سوال عرض ہے زید کے گھر کے پاس ایک ہندو شخص کا ہوٹل ہے اس ہندو شخص کے ہوٹل پر گوشت حلال کا آتا ہے زید نے تحقیق کی زید کا اس ہندو ہوٹل پے کھانا جایز ہے یا نہیی اس پر شرعی حکم کیا ہوگا
المستفتی زاہد حسین رضوی دہلی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم الســلام ورحمتہ اللہ وبـرکاتـہ
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب
طرزسوال سےظاہرہے کہ کھانا ہندوہوٹل میں ہندونےپکایاہے لہذااس کاکھاناناجائزوحرام ہے اگرچہ مسلمان کاذبیحہ ہو۔اگرمسلمان نےذبح کیااورگوشت اس کےنظرکےسامنےہی رہااوجھل نہ ہوا یہاں تک کہ اس کےسامنے ہی پکا تواس کا کھانا جائز ہےاور اگرمسلمان سےایک مقام پر ذبح کرایا اور دوسرے مقام پرپکا یامسلمان کےنظروں کے سامنے تو اگر لانے لے جانے میں مسلمان کی نظرسےاوجھل ہواتوبھی اس کاکھاناجائزنہیں۔جیساکہ حضور اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریرفرماتے ہیں کہ"ہندوکےہاتھ کاپکاہواگوشت حرام ہے مگراس صورت میں کہ مسلمان نےذبح کیااوراپنےآنکھ سےغائب ہونےنہ دیااس کےسامنےپکایا۔اھ"فتاویٰ رضویہ جلدنہم نصف آخرصفحہ ١١٥، ماخوذفتاوی فقیہ ملت جلد دوم صفحہ ٣١١
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری عفی عنہ بلرام پوری
الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد اسمعیل خان امجدی قادری رضوری عفی عنہ
الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد مشاہد رضا قادری عفی عنہ
الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیرمحمد مـعصوم رضا نوری عفی عنہ
(۲۶) ذی الحجہ ۱۴۴۱ھ مطابق (۶) جولائی ٠٢٠٢ء بروز منگل

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں