الســلام علیکم ورحمتـــہ اللہ وبـرکـاتـہ
الســـــــــــــــوال کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئ شخص بکرا لایا قربانی کے لۓ اور پھر قربانی سے پیشتر اس شخص کا انتقال ہو جاۓ تو اب قربانی کس کے نام سے کی جاۓ
السائــل انـــور رضـــا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم الســلام ورحمتہ اللہ وبـرکاتـہ
الجوابـــــ بــعون الملڪ الوالھابـــــ
دس ذوالحجہ سے پہلے یا قربانی کے دنوں میں جانور ذبح کرنے سے پہلے اگر صاحب قربانی کا انتقال ہوجائے تو قربانی ساقط ہوجائے گی اور وہ جانور وارثوں کا ہوگا
حــضـور صــدرالـشــریـعــہ عـلیــہ الـرحـمــہ تـحـریــر فـرمـاتـے ہیں
سات شخصوں نے قربانی کے لیے گائے خریدی تھی ان میں ایک کا انتقال ہوگیا اس کے ورثہ نے شرکا سے یہ کہہ دیا کہ تم اس گائے کو اپنی طرف سے اور اوس کی طرف سے قربانی کرو اونھوں نے کر لی تو سب کی قربانیاں جائز ہیں اور اگر بغیر اجازت ورثہ ان شرکا نے کی تو کسی کی نہ ہوئی_
(1)(ہدایہ) بہار شریعت
لـــہٰـذا، صورت مسؤلہ میں تمام وارثوں کی رضامندی سے ایصال ثواب کی نیت سے قربانی کریں تو زیادہ بہتر ہے۔
والــلّٰـہ اعــلم بـــاالصـــــوابـــــ
کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ فقیـــر محمــــــــد امــتـیـاز قـمـر الـقــادری رضـــوی الامجــــدی صـاحـب قبـلـہ مـدظلــہ الـعالـی والـنـوارنــی گریڈیہ جھارکھنڈ
الجـوابـــــ صـحیح فــقیــر مــحمـد ابـراہیـــم خــان امـجـــدی قــادری رضــــوی عــفـی عـنـہ بلـرامپـــوری
(۱) ذی الحجہ ۱۴۴۱ھ مطابق (۲۳) جولائی ٠٢٠٢ء بروز جمعرات

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں