اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
الســــــــــــــــوال علماء کرام کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی بعض کافر اللہ کا واسطہ دے کر مانگتے ہیں ایسے لوگوں کو دینا کیسا ہے
السائل؛ عبد الرحمن شیرانی آباد راجستھان
____________________________________
وعلیکم اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب
خدا کا واسطہ دے کر مانگنے والا کافر حلال اشیاء کھانے پینے کا سامان مانگتا ہو اور اسے۔ سخت ضرورت ہو تو دینے میں حرج نہیں ورنہ ارادہ منقطع کر دیں
حضور اعلی حضرت عظیم البرکت امام اہلسنت تحریر فرماتے ہیں ــــــــــــــ👇
مانگنے والا اگرخدا کاواسطہ دے کرمانگے اور دینے والے کا اس شئ کے دینے میں کوئی حرج دینی یادنیوی نہ ہوتو مستحب وموکد دیناہے ورنہ نہ دے بلکہ، امام عبد ﷲ بن مبارك رضی ﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ جوخدا کاواسطہ دے کرمانگےمجھے یہ خوش آتاہے کہ اسے کچھ نہ دیاجائے یعنی تاکہ یہ عادت چھوڑدے فتاویٰ رضویہ جلد ۲۵ صفحہ ۲۱۵ وہ اس لیے خدا کا واسطہ دے کر بیٹا بھی مانگ سکتا ہے خدا کا واسطہ دے کر کے کچھ بھی مانگ سکتا ہے ایمان چھین سکتا ہے وغیرہ وغیرہ اس لیے پرہیز کریں
وَالــلّٰـہُ اَعْــلَمُ بِـــاالصَّـــــوَاب
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ فـقــیـر مـحــمـد امتـیـاز قــمـر رضــوی امـجـــدی عـفی عنــہ خـطیـب وامام رضــا نـگر گـینــرو بینـگا بــاد گــریڈیـہ جھـار کھنـڈ
الجوابـــــ صحیح والمجیب نجیح فقط فقیرمحمد اختر علی واجدالقادری عفی عنہ
🗓 (۳) 👈 ماہ ربیع النور ۱۴۴۲ھ مطابق (۲۱) ستمبر ٠٢٠٢ء بروز 👈بدھ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں