*بغیر جماعت کے تکبیر پڑھ کرنماز پڑھنا کیسا ہے؟*



 اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ

*الســــــــــــــــوال حضرت میرا عریضہ جب میں گھر جاتا ہوں اب نماز پڑھانے والا کوئی نہیں  اب لو گ نماز پڑھتے ہیں  تو تکبیر کہ کے نماز پڑھتے ہیں  جو جماعت کا ٹائم اسوقت تکبیر پڑھکربغیر جماعت کے نماز پڑھتے ہیں بغیر جماعت کے تکبیر پڑھ کرنماز پڑھنا کیسا ہے*

*السائل محمد حسرت علی


ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ* 

*(✅الجواب بــعون الملڪ الوالھابـــ* 

*نماز پڑھانے والے  امام نہیں ہیں تو بہتر ہے کہ مقتدیوں میں جو سب سے زیادہ نمازکے مسائل جانتا ہواورقرأت صحیح کرتاہوفاسق معلن نہ ہو وہ امام بنے چونکہ بلا وجہ سے جماعت ترک کرنا گنہگار سزا کے مستحق اگرکوئی شخص مقتدیوں میں لائق امامت نہ ہو توتنہاتنہانمازاداکریں جماعت کی بہت تاکید آئی ہےمردوں کو جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے۔ بلا عذر ایک بار بھی چھوڑ نے والاگنہگاراور سزا کے لائق ہے اور کئی بار ترک کرنے والا فاسق مردُودُ الشَّہادت ۔ قانون شریعت جلد اول صفحہ ١٠١۔ جب کوئی اکیلا ہو یا اپنے ساتھیوں کے ساتھ فرض نماز کے لیے اذان و اقامت دونوں کہے گا اور اگر صرف اقامت پر اکتفا کرے تو جائز ہے۔ مگر یہ حکم مسجد محلہ کے علاوہ کے لئے ہے اور مسجد محلہ میں نماز ہو جانے کے بعد اگر اکیلا نماز پڑھتا ہے تو اسے اذان واقامت کہنا مکروہ ہے اور مقیم اگر شہر یا دیہات میں اپنے گھر میں نماز ادا کرے تو اذان و اقامت دونوں چھوڑنا جائز ہے کہ مسجد محلہ کی اذان و اقامت اس کے لیے کافی ہے  مگر یہ حکم اس جگہ کے لئے ہے جہاں محلہ کی مسجد میں اذان واقامت ہوتی ہے اور جہاں مسجد ہی نہ ہو یا مسجد تو ہو مگر اس میں اذان واقامت نہ ہوتی ہو تو اس جگہ اپنے گھر میں نماز پڑھنے والوں کو اذان و اقامت دونوں چھوڑنا یا صرف اذان پر اکتفا کرنا مکروہ ہے۔البتہ صرف اقامت پر اکتفا کرنا جائز ہے- فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ ۹۴*


*ایک صورت یہ بھی ہے ــــــــــــ👇*

*اکیلا پڑھنے والا اگر ساتھیوں کے ساتھ جماعت کرلے اور جماعت ثانی ہو تو اقامت کہ سکتے ہیں اس میں حرج نہیں ہاں مگر وہ اس وقت ہے جب نئی اذان بھی کہیں جائے ایسا ہی ــــــــــــــــ👇*

*بہار شریعت حصہ سوم ١٣٠_ ردالمختار میں ہے اذا صلی فی مسجد المحلة جماعة بغیر اذان حیث یباح اجماعااھ ۔ یعنی جب جماعت ثانی بغیر اذان محلہ کی مسجد میں قائم کرے تو بالا جماع مباح ہے*

*ردالمختار جلد اول صفحہ ۵۵۳*


*( وَالــلّٰـہُ اَعْــلَمُ بِـــاالصَّـــــوَابـْــــ)* 

 *کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ فـقــیـر مـحــمـد امتـیـاز قــمـر رضــوی امـجـــدی عـفی عنــہ خـطیـب وامام رضــا نـگر گـینــرو بینـگا بــاد گــریڈیـہ جھـار کھنـڈ رابطـہ نمبــــر 👇)* 

*https://wa.me/919113471871* 


*الجواب صحیح والمجیب نجیح فــقیر مــحـمد ابـراہــیم خـان امـجــدی قــادری رضــوی بـلرامپـــوری عــفی عــنـہ خـطیـب وامــام غــوثــیہ مسجــــد بـھیــونـڈی مـہاراشــٹـر* 


*الجواب صحیح والمجیب نجیح* 

*فقیرمحمد اختر علی واجدالقادری عفی عنہ*


*🗓 (۴) 👈 ماہ ربیع النور ۱۴۴۲ھ مطابق (۲۲) ستمبر ٠٢٠٢؁ء بروز 👈جمعرات*

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...