اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
السوال علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال ہے کہ کسی کے بڑے بھائی کا انتقال ہوجائے تو اس کا چھو ٹا بھائی اپنے بھائی کی بیوی سے نکا ح کر سکتا ہے یا نہیں نہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں جوا عنا یت فر مائیں
السائل : عبد الغنی قادری
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب
صورت مسئولہ میں عورت پر چار ماہ ⑽ دس دن عدت گزارنا فرض ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں پروردگار عالم کا ارشاد ھے، وَالَّذِیْنَ یُتَوَ فَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَزَرُوْنَ اَزْوَا جًا یَّتَرَ بَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْھُرٍ وَّعَشْرا،، یعنی تم میں جو مر جائیں اور بیویاں چھوڑیں وہ چار ماہ دس دن اپنے آپ کو روکے رھیں، پارہ نمبر ٢ ع١٤، فتاوی فیض الرسول جلد دوم صفحہ ٢٩٥، بعد عدت زید اپنی بھابھی سے نکاح کرسکتا ہے جائز ہے
اللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیازقمر امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد اسمعیل خان امجدی عفیؔ عنہ
(۲۳) ماہ محرم الحرام مبارڪ ہو۔۱۴۴۲ھ مطابق (۱۲) ستمبر ٠٢٠٢ء بروز سنیچـر

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں