اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ
السوال، سوال عرض ہے کہ سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا اور اس سے نفع حاصل کرنا کیسا جزاک اللہ خیرا کثیرا
المستفتی، محمد قمر الدین گجرات گودھرا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب بینک اکاونٹ کھلواناجائزہے ہندوستان میں جو گورمنٹی بینک ڈاک خانے ہیں ان میں جمع ہونےوالی رقم جوفاضل رقم یعنی منافع ملتا ہے وہ سودہرگزنہیں، اگرچہ بینک والےاوردوسرےافراد اسےسودہی کہیں کیونکہ یہاں کے کفارحربی ہیں، جیساحضــرت علامــہ ملاجیون رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ان هم الاحربى ومايعقلهاالاالعالمون.تفسیر احمدیہ صفحہ نمبر/300مکتبہ اشرفی، اورمسلمان وکافرکےدرمیان سودتحقق نہیں ہوتاہے، حدیث پاک میں ہے، لاربابین المسلم والحربی۔لہذابینک سے فاضل رقم لینےوالاسودسمجھ کر نہیں بلکہ یہ جان کرلیتاہےکہ ایک کافرحربی کامال ہے جوکہ اپنی خوشی سے دےرہاہے تو اس کےلینےمیں کوئی حرج نہیں، ہدایہ۔فتح القدریر۔درمختار، یہ صراحتامذکور ہے، لان مالهم مباح باى طريق اخذه المسلم اخذمالامباحااذالم يكن فيه غدرا، کفارکامال مباح ہے،بغیردھوکےکےمسلمان کولینادرست ہے، بینک ہی کے تعلق سے،، مجدداعلی حضرت امام احمدرضابریلوی علیہ الرحمہ تحریرفرماتےہیں، مال مباح جب غدربےارتکاب جرائم برضامندی ملتاہو تو اسےنہ ہیت سودبلکہ اسےنیت مباح سے لینے میں حرج نہیں، فتاوی رضویہ جلد/7صفحہ نمبر/118/رضااکیڈمی، ماخوذاز فتاوی مصدقات محدث کبیر۔صفحہ نمبر/127/128
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد الطاف حسین قادری عفی عنہ
الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد ابراہیم خان امجدی عفی عنہ
(۱۸) ماہ محرم الحرام مبارڪ ہو۔۱۴۴۲ھ مطابق (۸) ستمبر ٠٢٠٢ء بروزمنگـــل

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں