امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر جو پانی بند کے واقعات ہیں اسکی حقیقت کیا ہے؟

 السلام علیکم ورحمتہ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماے اسلام و مفتیان کرام  مسئلہ ذیل کے بارے میں 

امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر جو پانی بند کے واقعات ہیں اسکی حقیقت کیا ہے البدایہ والنہایہ کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں 

 محمد صبیح انور
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ۔
الجواب بعون الملک الوہاب،
صورت مستفسرہ میں حضرت امام عالی مقام اور ان کے پورے اہل جانشین اہل بیت پر کربلا میں ابن زیاد کا پانی بند کرنا کچھ علماء کا اختلاف رہا ہے لیکن یہ واقعہ بالکل درست ہے،! جیسا کہ،  البدایة والنهاية، ابن كثير مىں ہے کہ،، ابن زیاد نے عمر ابن سعد کو جواب میں لکھا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور اس کے ساتھیوں کے لئے پانی بند کر دیا جائے جیسا کہ امیرالمؤمنین حضرت عثمان بن عفان کے ساتھ کیا گیا تھا نیز حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو پیشکش کرو کہ وہ امیرالمومنین یزید بن معاویہ کی بیعت کر لیں،،
(تاریخ ابنِ کثیر ،حصہ،ہفتم، صفحہ ،506)
علامہ ابی جعفر محمد بن جریر الطبری المتوفی، تحریر فرماتے ہیں کہ،،
ابن زیاد کا خط ابن سعد کو پہنچا اس میں یہ بیان،! ایک بوند پانی وہ لوگ نہ پی سکیں، جو سلوک کہ تقی زکی مظلوم امیرالمومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا گیا تھا، اس خط کو دیکھ کر ابن سعد نے عمرو بن حجاج کو پانچ سو سواروں کا رئیس کر کے روانہ کیا یہ لوگ نہر پر جا کر ٹھہرے اور نہر اور حسین رضی اللہ عنہ و اصحاب حسین رضی اللہ عنہ کے درمیان یہ سب حائل ہو گئے کہ وہ بوند بھر پانی اسے نہ پینے پائیں،،
(تاریخ طبری جلد چہارم حصہ اول، صفحہ 199)
فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ،، اہل بیت نبوت کی شجاعت اور بہادری کا ابن زیاد کے دل پر اتنا اثر تھا کہ ان کے مقابلہ کے لیے 22 ہزار کا لشکر جرار بھیج دیا-دوگنی چوگنی دس گنی تو کیا سوگنی تعداد کو بھی کافی نہیں سمجھا کوفہ کے تمام قابل جنگ افراد کو کربلا میں بھیج دیا، اس کے باوجود لوگوں کے دل خوف زدہ ہیں آزمادلاوروں کے حوصلے پست ہیں آخر مجبورا ان کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ لشکرے امام پر پانی بند کر دیا جائے چنانچہ ابن سعد نے عمر بن حجاج کو پانچ سو سواروں کے ایک دستہ کے ساتھ دریائے فرات پر مقرر کر دیا تاکہ امام اور ان کے ساتھی پانی کی ایک بوند نہ لے سکیں،،
(خطبات محرم ،صفحہ، 352)
لہذا ان تمام حوالہ جات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل بیت پر ابن زیاد حقیقت پانی بند کروایا تھا، اگرچہ کچھ روایت کے مطابق اہل بیت کے خیمے میں دسویں محرم تک پانی موجود ہونے کا ثبوت ملتا ہے، لیکن پانی بند کیا گیا تھا یہی سچ اور حقیقت ہے،
واللہ اعلم باالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی ،گریڈیہ جھارکھنڈ انڈیا ، 2،محرم الحرام، 1444ھ، بروز، پیر،


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...