شرابی گاؤں سے بائیکاٹ ہے اس کی بیوی میکے میں پناہ لے سکتی ہے



 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ 
ایک گاؤں میں علاؤ نام کا ایک شخص شراب پیتا ہے اور کبھی کبھی بیوی کو مارتا بھی ہے ستاتا ہے اور اسکا شراب  پینے کی وجہ سے اسکا سماجی بائکاٹ ہے اور اسکی عورت کا میکے اسی گاؤں میں ہے تو اسکی عورت اپنے میکے جا سکتی ہے یا نہیں 
اور چلی بھی گئ تو اسکے میکے والوں پر بھی کچھ حکم نافذ ہوگا یا نہیں 
حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب

صورت مستفرہ میں ہندہ میکے جا سکتی ہے اور میکے والوں پر پناہ دینے کے سبب کوئی گناہ نہیں ہوگا اور اگر ایسا کرنے سے علاؤ شراب پینے اور بیوی کو مارنے سےباز آجائے تو پھر بیوی شوہر کے پاس آئے اور ازدواجی زندگی گزارے لیکن اگر علاؤ تمام تر کوششوں کے باوجود بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا ہے شراب کے نشہ میں ہندہ کو مارتا پیٹتا ہے تو اس صورت میں ہندہ کے جان کے نقصان کا بھی اندیشہ ہے لہذا وہ علاؤ سے طلاق حاصل کرلے تاکہ وہ محفوظ رہے اور اگر علاؤ طلاق بھی نہیں دیتا ہے اور شراب خوری بیوی پر ظلم تشدد کرتا ہی رہتا ہے تو ہندہ شہر کے بڑے عالم کے پاس معاملات کو پیش کرے پھر شہر کا بڑا عالم حالات کو دیکھ کر علاؤ کو حکم دے گا کہ ہندہ کو طلاق دے
گاؤں والوں نے علاؤ کا جو بائیک کیا ہے وہ بہت ہی بہتر ہے جب تک علاؤ توبہ واستغفار نہ کرلے گاؤں والے اور ہندہ سب اس سے دور رہیں۔
اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں حضور اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں"صُورتِ مستفسرہ میں  عورت پر ہرگز جبرنہ ہوگا کہ شوہر کے یہاں  جائے کہ اس میں  دینی دُنیوی وجانی وجسمانی اُس کا ہر طرح کا ضررہے، جان جانے کا اندیشہ باقی وموجود اور ضرر شرعاً واجب الدفع ہے ﷲعزوجل فرماتا ہے :ولاتضاروھن۱؎عورتوں کوضرر نہ پہنچاؤ۔  ( القرآن الکریم ۶۵/۶)رسول ﷲصلی ﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :لاضرر ولاضرارفی السلام۔اسلام میں نہ ضرر ہے نہ کسی کو ضرر دینا۔ پس اگر کچھ لوگ صالحین واہلِ دین میسر ہوسکتے جن کی حمایت میں عورت کا رہنا شرعاً بھی جائز ہو اور وہ اس کی نگہداشت کافی طور پر کرسکیں اور شوہر کو اس کے دین جسم وجاں  پر تعدّی نہ کرنے دیں  جب تو عورت وہاں  اپنے آپ کو سپردِ شوہر کرتی کہ اس میں دونوں  کے حق مراعات رہتے۔ردالمحتار میں ہے:فی البحر لوقالت انہ بضربنی ویوذینی فمرو ان یسکننی بین قوم صالحین فان علم القاضی ذٰلک زجرہ ومنعہ عن التعدی فی حقھا والایسأل عن صنیعہ فان صدقوھا منعہ عن التعدی فی حقھا ولایترکھا ثمہ وان لم یکن فی جوارھا من یوثق بہ او کانوا یمیلون الی الزوج امرہ باسکانھا بین قوم صالحین۔بحر میں  ہے اگر بیوی نے قاضی کو درخواست دی کہ خاوند مجھے مارتا اور اذیّت دیتا ہے تو اس حکم دیجئے کہ مجھے نیک لوگوں  میں  سکونت دے، اگر قاضی خود اس معاملہ سے آگاہ ہوتو خاوند کو ڈانٹے اور مارنے اور زیادتی سے منع کرے، ورنہ پڑوسیوں  سے خاوند کے رویے کے متعلق معلوم کرے اگر وہ بیوی کی تصدیق کریں  تو قاضی خاوند کو زیادتی سے منع کرے ورنہ اسی مسکن میں  رہنے دے، او اگر اس کے پڑوس میں کوئی ثقہ آدمی نہ ہو یا پڑوسی خاوند کی طرفداری کریں  تو خاوند کو پابند کرے کہ وہ بیوی کو نیک لوگوں  میں رہائش دے۔مگر غیر لوگوں  سے اس زمانے میں نہ ایسی اُمید نہ ایسے لوگو ملیں  گے پر نان نفقہ لازم کیا جائے لانھا لیست بناشزۃ لان امتناعھا بحق(کیونکہ وُہ نافرمان نہیں  کیونک اپنے حق کےلئے وُہ خاوند کو جماع سے روکتی ہے۔ت) پھر اگر اُس کے ساتھ خولت میں  اندیشہ ہوتو اس سے منع کریں  اور یہی صورت معتبر ہے، اور اگر اب اندیشہ صحیحہ ہواور بندوبست کافی کی اُمید نہ ہو اور فی الواقع شرابی کا بندوبست ناممکن سا ہے تو حاکم شوہر پر جبر کرے کہ عورت کوطلاق دے۔ﷲتعالٰی فرماتا ہے :فامسکوھن بمعروف اوسرحوھن بمعروف۔ان کو پاس روکے رکھو بھلائی کے ساتھ، یا ان کو فارغ کردو بھلائی کے ساتھ۔( القرآن الکریم    ۲ /۲۳۱)عورتوں کو تو اچھی طرح رکھو یا اچھی طرح چھوڑدو، جب اچھی طرح رکھنا نہیں تو اچھی طرح چھوڑنا اس پر واجب ہُوا اور ترکِ واجب گناہ ہے اس گناہ پر حاکم سزادے سکتا ہے،کمافی البحر والدروغیرھما ان کل مرتکب معصیۃ لاحد فیھا فیھاالتعزیر۔جیسا کہ بحر میں  ہے کہ وُہ گناہ جس پر حد نہ ہو اس پرتعزیر ہوتی ہے۔بغیر اس کے بطور خود فسخ نکاح کی صورت ہمارے یہاں  مذہب میں  نہیں  ہے۔
فتاوی رضویہ جلد ١٢ صفحہ ١٠٥ مطبوعہ دعوت اسلامی

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی بلرامپوری

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...