جمعہ کا خطبہ شرط ہے ؟ کیا وہ وا جب میں شامل ہوتا ہے؟

 مستحبات السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں ۔جمعہ کا خطبہ شرط ہے ؟

کیا وہ وا جب میں شامل ہوتا ہے؟

اور جتنے بھی شرائط ہیں وہ سب واجبات میں شامل ہوتے ہیں؟

محمد عبداللہ کرناٹک۔


وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب

آپ نے لکھا ہے جمعہ کا خطبہ شرط ہے؟ جی ہاں جمعہ کا خطبہ شرط ہے اور اس کی شرائط چار ہیں ۔پہلا وقت میں ہو۔دوسرا نماز سے پہلے۔تیسرا خطبہ سننے والے خطیب کے کم ازکم علاوہ سوا تین مرد ہو۔ چوتھا خطبہ بلند آواز سے ہوں کہ پاس والے سن سکیں۔اگر کوئی امر مانع نہ ہو تو اگر زوال سے پیشتر خطبہ پڑھ لیا یا نماز کے بعد پڑھا یا تنہا پڑھا یا عورتوں  بچوں  کے سامنے پڑھا تو ان سب صورتوں میں جمعہ نہ ہوا اور اگر بہروں  یا سونے والوں  کے سامنے پڑھا یا حاضرین دور ہیں کہ سنتے نہیں  یا مسافر یا بیماروں  کے سامنے پڑھا جو عاقل بالغ مرد ہیں  تو ہو جائے گا۔ 

بہار شریعت حصہ چہارم صفحہ 771 مکتبۃ المدينہ باب المدینہ کراچی۔ 


آگے آپ نے لکھا ہے کیا وہ واجب میں شامل ہوتا ہے؟

شرائط خطبہ جمعہ چاروں شرائط میں کوئی بھی شرائط واجب نہیں بلکہ فرض ہے ان شرائط میں ایک بھی چھوڑ دینے سے نماز نہیں ہوگی۔


آگے آپ نے لکھا ہے جتنے بھی شرائط ہیں وہ سب واجبات میں شامل ہوتے ہیں؟ خطبہ جمعہ شرائط واجب نہیں پھر واجبات میں شامل کیسے ہوں گے ہاں اتنا ضرور ہے جو مقتدی دور ہو اور خطبہ نہیں سن سکتا اسے بھی خاموش رہنا واجب ہے مگر یہ شرائط خطبہ میں نہیں۔البتہ خطبہ جمعہ کے علاوہ اور خطبوں کا سننا بھی واجب ہے مثلا خطبہ عیدین و نکاح وغیرہما ۔  


واللہ اعلم

کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...