مشروم سبزی بنا کر کھانا کیسا ہے؟

  اَلسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کہ بارے میں کہ مشروم سبزی بنا کر کھانا کیسا ہے برائے کرم تفصیل  و حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی۔ المستفتی ۔حافظ سراج اکمل گیا بہار




______________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب
مشروم چھتری کا سبزی بنا کر کھانا کسی حدیث سے ثابت نہیں ہاں لیکن حرام یا ناجائز بھی نہیں کہا گیا اگر یہ چیز نقصان دہ یا نشہ لانے والی چیز نہیں تو کھانے کے استعمال میں لا سکتے ہیں ورنہ نہیں ہاں مشروم چھتری جو برسات میں اکثر و بیشتر زمین میں پاۓ جاتے ہیں اس کو دوا میں استعمال کرنے کے لیے حدیث سے ثابت ہے حدیث شریف میں ہے

و عن أبي هريرةَ إِنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لرسولِ الله: الْكَمْأَةُ جُدَرِيُّ الْأَرْضِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ» . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَفَأَخَذْتُ ثَلَاثَةَ أَكْمُؤٍ أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا فَعَصَرْتُهُنَّ وَجَعَلْتُ مَاءَهُنَّ فِي قَارُورَةٍ وَكَحَّلْتُ بِهِ جَارِيَةً لِي عَمْشَاءَ فَبَرَأَتْ..

حضرتحضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا کھنبی زمین کی چیچک ہے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کھنبی ، من (من و سلوی) کی ایک قسم ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لیے باعث شفا ہے ، اور عجوہ (کھجور) جنت سے ہے اور وہ زہر کا تریاق ہے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ، میں نے تین یا پانچ یا سات کھنبیاں لیں انہیں نچوڑ کر ان کے پانی کو ایک شیشی میں رکھ لیا اور میں نے اپنی اس لونڈی کی آنکھوں میں وہ پانی ڈالا جس کی آنکھوں سے پانی بہتا رہتا تھا ، تو وہ اس سے صحت یاب ہو گئی ۔

مشکاۃ المصابیح حدیث 4569

روایت ہے حضرت ابوہریرہ

 رضی اللہ

 تعالیٰ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ کھمبی زمین کی چیچک ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفاء ہے اور عجوہ جنت سے ہے اور وہ زہر سے شفا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ پھر میں نے تین یا چار یا پانچ یا سات کھمبیاں لیں انہیں نچوڑا اور ان کا پانی ایک شیشی میں ڈال لیا ایک ضعیف البصر لونڈی کی آنکھ میں اس کا سرمہ لگایا وہ اچھی ہوگی   ۶؎ (ترمذی)اور فرمایایہ حدیث حسن ہے۔۔

  شرح

  کمات کا اردو ترجمہ ہے کھمبی جو برسات میں بھیگی لکڑی سے چھتری کی طرح نکلتی ہے اسے سانپ چھتری بھی کہتے ہیں۔ان کا مطلب یہ تھا کہ جیسے چیچک انسان کی کھال کے نیچے سے ردی بلغمی فضلات سے نمودار ہوتی ہے یہ بھی زمین کی بیماری ہے ہے یعنی جیسے بنی اسرائیل پر من اترا تھا بغیر مشقت نہایت لذیذ و مفید کھانا ایسے ہی یہ کھمبی بغیر مشقت ہم کو مل جاتی ہے بغیر محنت و مشقت سے بہت نافع اس کی شرح پہلے گزر چکی۔۔کھمبی دو قسم کی ہے۔ایک چھتری نما اور ایک مولِی کی طرح لمبی یہاں دوسری قسم مراد ہے۔۔

۳؎  آنکھ کی گرمی دفع کرنے کے لیے صرف یہ پانی مفید ہے،دوسرے چشمی امراض میں یہ پانی سرمہ میں ڈال کر یا دوسری دواؤں میں ملاکر مفید ہے بعض امراض میں نقصان دہ لہذا اس کا استعمال طبیب کی رائے سے کرنا چاہیے۔غالبًا اہل عرب کی آنکھ کی بیماریاں عمومًا ایسی ہوتی ہوں گی جن میں یہ پانی مفید ہو
(مرقات)اور اشعۃ اللمعات
,,کہ ایک بزرگ نابینا ہوگئے تھے انہوں نے اعتقاد سے یہ پانی استعمال کیا انہیں گئی ہوئی روشنی ملی ان کا نام ابن کمال دمشقی ہے,,
مراۃ المناجیح جلد 6 حدیث 406
البتہ مشروم کھنبی یا چھتری کھانے کے بارے میں صحیح نص موجود نہیں ہے لیکن حرام یا ناجائز بھی نہیں اس لئے کھانے سے منع نہیں کر سکتے لیکن اکثروبیشتر ہندو عیسائی یہودی بڑے مزے سے کھاتے ہیں۔ ایک زبان میں اس کو کھنکھڑی بھی کہا جاتا ہے۔لہذا پرہیز بہتر ہے کہ کھانا ناجائز نہیں واللہ اعلم باالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ انڈیا21/3/2021*

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...